قومی خبریں

متھرا: ہولی پر مسلم دکانداروں کو رنگ و گلال فروخت کرنے سے روکنے کا مطالبہ، وزیر اعلیٰ کو خط

متھرا میں ہولی سے قبل دنیش شرما عرف پھلاہاری مہاراج نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر مسلم دکانداروں پر رنگ و گلال فروخت کرنے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے، جس سے نئی بحث چھڑ گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

متھرا: اتر پردیش میں ہولی کے تہوار سے پہلے مذہبی اور سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، دریں اثنا، شاہی عیدگاہ مسجد-شری کرشن جنم بھومی اور تنازعہ معاملے کے اہم درخواست گزار دنیش شرما، جو پھلاہاری مہاراج کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ہولی کے موقع پر مسلم دکانداروں کو رنگ اور گلال فروخت کرنے سے روکا جائے۔

Published: undefined

پھلاہاری مہاراج نے اپنے خط میں الزام عائد کیا ہے کہ بعض ہندو مخالف عناصر ہولی کی پاکیزگی کو متاثر کرنے کے لیے رنگوں میں شیشہ کے ٹکڑے یا دیگر ناپاک اشیا ملا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے سے بچانے کے لیے مسلم برادری کے افراد کو ہندو تہواروں سے متعلق کاروبار سے دور رکھا جانا چاہیے۔

Published: undefined

خط میں انہوں نے یہ اپیل بھی کی ہے کہ شری کرشن جنم بھومی اور دیگر اہم مندروں کے اطراف مسلم تاجروں کو اسٹال لگانے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے ان سرگرمیوں کو مبینہ طور پر لو جہاد جیسی سازشوں سے بھی جوڑا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ ہندوؤں کے مقدس تہوار سے متعلق سامان صرف سناتنی تاجروں کے ذریعے فروخت ہونا چاہیے۔

Published: undefined

دنیش شرما اپنے سخت عزم کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ گزشتہ چار برس سے اناج ترک کیے ہوئے ہیں اور صرف پھلوں پر گزارا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک جنم بھومی احاطے سے مسجد مکمل طور پر نہیں ہٹائی جاتی، وہ معمول کا کھانا قبول نہیں کریں گے اور ان کا یہ احتجاج بدستور جاری ہے۔

پھلاہاری کے اس مطالبے کے بعد ایک بار پھر معاشی بائیکاٹ کی بحث زور پکڑ گئی ہے۔ ایک طبقہ اسے تحفظ اور مذہبی پاکیزگی کا مسئلہ قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اسے سماجی ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کے منافی سمجھتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined