قومی خبریں

نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک پر طلبہ میں شدید غصہ، این ایس یو آئی کا دہلی میں زبردست احتجاج

نیٹ یو جی 2026 کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ کیے جانے پر ملک بھر میں ناراضگی بڑھ گئی۔ دہلی میں این ایس یو آئی اور طلبہ نے حکومت، این ٹی اے اور نظام کے خلاف شدید احتجاج کیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: نیٹ یو جی 2026 کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ کیے جانے پر ملک بھر کے طلبہ میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ اسی معاملے پر منگل کو دہلی میں نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا یعنی این ایس یو آئی کی جانب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں نیٹ یو جی امتحان میں شامل ہونے والے سیکڑوں طلبہ شریک ہوئے۔ مظاہرین نے حکومت، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی اور امتحانی نظام کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

Published: undefined

این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے اس موقع پر کہا کہ جس انداز میں نیٹ یو جی کا پرچہ امتحان سے پہلے ہی ٹیلی گرام اور واٹس ایپ گروپوں میں گردش کرتا رہا، وہ پورے نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی سنجیدہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جو انتہائی افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے لاکھوں نوجوان گزشتہ دو برس سے اس امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔ کئی خاندانوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے قرض تک لیا، لیکن پیپر لیک نے ان کی محنت اور امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو پیپر لیک مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔

Published: undefined

ونود جاکھڑ نے کہا کہ معاملہ صرف ایک امتحان کا نہیں بلکہ ملک کے مستقبل اور صحت کے نظام کا بھی ہے۔ اگر دھاندلی کے ذریعے آگے آنے والے لوگ مستقبل میں ڈاکٹر بنیں گے تو یہ پورے سماج کے لیے خطرناک ہوگا۔

احتجاج میں شامل طلبہ نے کہا کہ گزشتہ برس 2024 میں بھی اسی طرح نیٹ یو جی کا پرچہ لیک ہوا تھا، لیکن اس وقت کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار ایسے واقعات سے ایمانداری سے محنت کرنے والے طلبہ کا حوصلہ ٹوٹ رہا ہے۔ طلبہ نے سوال اٹھایا کہ اگر آخرکار نقل اور دھاندلی کرنے والوں کو ہی فائدہ پہنچنا ہے تو برسوں کی محنت کا کیا مطلب رہ جاتا ہے۔

Published: undefined

جموں و کشمیر کے ایک امیدوار نے کہا کہ امتحان منسوخ ہونا ان طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہے جنہوں نے پوری دیانت داری کے ساتھ امتحان دیا تھا۔ ان کے مطابق یہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے انتظامی نظام کی سنگین ناکامی ہے۔

دوسری جانب راجستھان کے کئی طلبہ نے امتحان منسوخ کیے جانے کے فیصلے کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امتحان منسوخ نہ کیا جاتا تو ایماندار طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔ تاہم انہوں نے بھی اس پورے معاملے کو نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی اور انتظامیہ کی بڑی ناکامی قرار دیا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined