
منوج جرانگے پاٹل / سوشل میڈیا
ممبئی: مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے کو لے کر مہاراشٹر میں ایک بار پھر تحریک تیز ہونے کے امکانات ہیں۔ سماجی کارکن منوج جرانگے پاٹل نے اتوار کو الزام عائد کیا کہ 15 ستمبر سے شروع ہونے والے ممبئی مارچ کے دوران انہیں گولی مارنے اور احتجاج میں خلل ڈالنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
مہاراشٹر کے جالنا ضلع کے انترواالی ساراتی گاؤں میں جاری انشن کے 16ویں دن جرانگے نے احتجاجی مقام پر حامیوں اور میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعتوں سے وابستہ لوگوں کو مارچ میں بھیج کر بدنظمی پیدا کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
جرانگے نے کہا، ’’میں موت قبول کر لوں گا، لیکن جھکوں گا نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مجوزہ ممبئی مارچ سے قبل حکومت کے پاس اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اب بھی آٹھ دن کا وقت ہے۔ انہوں نے یہ بھی انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے مطالبات پر توجہ نہیں دی تو ان کے حامی بعض وزرا کو سیاسی طور پر چیلنج کر سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس اور نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کو نشانہ بناتے ہوئے جرانگے نے الزام لگایا کہ اقتدار میں موجود لوگ ان کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ممبئی میں مجوزہ مارچ کے دوران حالات خراب کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
جرانگے نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے حامیوں کے ساتھ 15 ستمبر کو ممبئی کے لیے روانہ ہوں گے اور 19 ستمبر سے ریاستی راجدھانی کے آزاد میدان میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مراٹھا برادری کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں ریزرویشن دیا جائے۔
انہوں نے 14 سے 25 ستمبر تک ہونے والے گنیش اتسو کے دوران مارچ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کو جرانگے نے دعویٰ کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا کے بعض مراٹھا ارکان اسمبلی ان کے حامیوں کو فون کرکے مارچ میں شرکت نہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
جرانگے نے الزام لگایا، ’’مارچ کے دوران مجھے گولی مارنے کی سازش ہے۔ وہ مراٹھا لوگوں کو نہیں مارنا چاہتے، بلکہ مجھے نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ وہ کسی صورت جھکنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ اگر وہ خوفزدہ ہیں تو مارچ میں شامل نہ ہوں۔ تاہم، جذباتی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ممبئی مارچ میں شرکت کرنی چاہیے اور ضرورت پڑنے پر ان کی آخری یاترا میں بھی شریک ہونا چاہیے۔
جرانگے نے کہا کہ وہ 15 ستمبر کو انترواالی ساراتی سے ممبئی روانہ ہوں گے اور 19 ستمبر کو صبح 10 بجے آزاد میدان میں بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں قانون اور عدلیہ پر اعتماد ہے۔ ان کے مطابق احتجاج کی اجازت کے لیے درخواست دی جا چکی ہے اور حکومت مظاہرے کے لیے کچھ شرائط عائد کر سکتی ہے۔
جرانگے نے کہا کہ انہیں پہلے ایکناتھ شندے پر اعتماد تھا اور جنوری 2024 میں مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے پر حکومت کی جانب سے حکومتی قرارداد (جی آر) جاری کیے جانے کے بعد وہ نوی ممبئی کے واشی سے واپس لوٹ گئے تھے۔ جرانگے کے اہم مطالبات میں پرانے ریکارڈ اور گزٹ دستاویزات کی بنیاد پر مراٹھا برادری کو دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے تحت کُنبی برادری کو حاصل ریزرویشن کا فائدہ دینے کے لیے حکومتی قرارداد جاری کرنا بھی شامل ہے۔
تاہم، او بی سی تنظیمیں اس مطالبے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے او بی سی کو ملنے والے ریزرویشن کے فوائد متاثر ہو سکتے ہیں۔ جرانگے نے ایک بار پھر زور دیا کہ مجوزہ احتجاج پُرامن اور جمہوری ہوگا اور انہوں نے مراٹھا برادری کے لوگوں سے بڑی تعداد میں اس میں شرکت کی اپیل کی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔