
عدالتی فیصلہ / علامتی تصویر / آئی اے این ایس
اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ سے متصل بارہ بنکی کی خصوصی عدالت (ایس سی؍ایس ٹی ایکٹ) کے حسین احمد انصاری نے 14 سال پرانے عصمت دری کیس میں ملزم ولسن سنگھ عرف آشو کو باعزت بری کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ 9 اپریل 2011 کو لکھنؤ کے وکاس نگر پولیس اسٹیشن میں ایک دلت خاتون کے ذریعہ درج کرایا گیا تھا جو بارہ بنکی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل شرد سریواستو کے گھر میں کام کرتی تھی۔ پولیس کی تحقیقات اور میڈیکل رپورٹ میں عصمت دری کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ عدالت نے پایا کہ یہ معاملہ محض 14 ہزار روپے کے لین دین کے تنازع کی وجہ سے رچی گئی ایک سازش تھی۔
Published: undefined
خصوصی عدالت میں سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اصل تنازعہ روپئے کے لین دین کا تھا۔ ملزم ولسن سنگھ ہیڈ کانسٹیبل شرد سریواستو کی کار چلاتا تھا اور اس پر 14 ہزار روپے واجب الادا تھے۔ اپریل 2011 میں جب آشو اپنی بیمار ماں کے علاج کے لیے پیسے مانگنے پہنچا تو شرد سریواستو نے اسے جیل بھیجوانے کی دھمکی دی اور اسے بھگا دیا۔ اس کے فوراً بعد ہیڈ کانسٹیبل کے گھر پر کام کرنے والی لڑکی کے ذریعہ ولسن پر 5 اپریل کی واردات بتاکرعصمت دری کا مقدمہ درج کرادیا گیا۔
Published: undefined
ملزم کے وکیل گندھرو گوڑ نے دلیل دی کہ متاثرہ کے بیانات مختلف مراحل میں نمایاں طور پر بدلتے رہے ہیں۔ میڈیکل رپورٹ نے بھی استغاثہ کے دعووں کی تائید نہیں کی۔ عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ فوجداری مقدمات میں سزا کے لیے ضروری ہے کہ الزامات کو شک و شبہ سے بالاتر ثابت کیا جائے۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ استغاثہ ٹھوس اور قانونی شواہد کی بنیاد پر الزامات ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے جس کے نتیجے میں ملزم کو 14 سال بعد انصاف ملا ہے۔
Published: undefined
کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عدالت نے جھوٹا مقدمہ درج کرنے والی خاتون کے خلاف بھی سخت رویہ اختیار اخیار کیا ہے۔ عدالت نے مدعی کے بیانات میں سنگین تضاد پائے اور اس کے خلاف دفعہ 344 سی آرپی سی کے تحت قانونی کارروائی کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ ان لوگوں کو سخت پیغام دیتا ہے جو آپسی رنجش نکالنے کے لیے سنگین قانونی دفعات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔
Published: undefined