
ممتا بنرجی / آئی اے این ایس
کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ایک تفصیلی خط لکھ کر ریاست میں ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران الیکشن کمیشن آف انڈیا کے طرزِ عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس عمل کو غیر منصوبہ بند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں عام شہریوں کو ہراسانی، ذہنی دباؤ اور غیر ضروری پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
Published: undefined
وزیر اعلیٰ کے مطابق اس خصوصی نظرثانی مہم کے دوران اب تک 70 اموات، خودکشی کی 4 کوششیں اور کم از کم 17 افراد کی طبیعت بگڑنے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جنہیں علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعات خوف، ڈرانے دھمکانے اور غیر مناسب کام کے بوجھ کا نتیجہ ہیں، جس کی ذمہ داری براہ راست الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔
ممتا بنرجی نے خط میں نوبل انعام یافتہ پروفیسر امرتیہ سین، معروف شاعر جوئے گوسوامی، فلمی اداکار اور رکن پارلیمنٹ دیپک ادھیکاری، بین الاقوامی کرکٹر محمد شامی اور بھارت سیواشرم سنگھ کے مہاراج کو سماعت کے لیے طلب کیے جانے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عالمی سطح پر معروف اور قابل احترام شخصیات کو اس طرح طلب کرنا الیکشن کمیشن کی جانب سے نامناسب اور توہین آمیز رویہ نہیں ہے۔
Published: undefined
انہوں نے اس بات پر بھی سخت اعتراض کیا کہ نوے برس سے زائد عمر کے پروفیسر امرتیہ سین سے اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے پیش ہونے کو کہا گیا، جو ان کے بقول نہایت شرمناک ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید الزام لگایا کہ شادی کے بعد رہائش تبدیل کرنے والی خواتین ووٹرز سے بھی بار بار پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے اور انہیں شناخت کے ثبوت کے لیے طلب کیا جا رہا ہے۔
خط میں تارکین وطن مزدوروں اور ریاست سے باہر مقیم ووٹرز کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے تاخیر سے دیے گئے ردعمل پر بھی تنقید کی گئی۔ ممتا بنرجی کے مطابق چند منتخب ووٹرز کو کنبے کے افراد کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت دی گئی، جبکہ زیادہ تر تارکین وطن مزدور اس سہولت سے محروم رہے، جو زمینی حقائق سے لاعلمی کو ظاہر کرتا ہے۔
Published: undefined
اگرچہ انہوں نے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے، تاہم وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ دانشمندی سے کام لیا جائے گا اور عوام کی ہراسانی کم کرنے کے لیے فوری اصلاحی اقدامات کیے جائیں گے۔ خط کے آخر میں انہوں نے ہاتھ سے لکھی تحریر میں یہ بھی کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ شاید اس خط کا کوئی جواب نہ آئے، لیکن تفصیلات سے آگاہ کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined