
عدالتی فیصلہ / آئی اے این ایس
ممبئی: مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ کیس کی سماعت کر رہے خصوصی این آئی اے جج اے کے لاہوٹی کا تبادلہ اچانک ناسیك کر دیا گیا ہے، جس پر متاثرین نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ متاثرین کے وکیل شاہد ندیم نے بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، رجسٹرار اور وزارت قانون و انصاف کے سکریٹری کو خط لکھ کر جج لاہوٹی کا تبادلہ روکنے اور ان کی مدت کار میں توسیع کی مانگ کی ہے۔
Published: undefined
جج لاہوٹی اگست 2022 سے اس حساس کیس کی روزانہ سماعت کر رہے تھے اور معاملہ اب آخری مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ بیشتر دلائل مکمل ہو چکے ہیں اور امکان تھا کہ رواں ماہ کے آخر تک فیصلہ محفوظ کر لیا جائے گا۔ تاہم اچانک تبادلے کے فیصلے نے انصاف کے عمل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
Published: undefined
بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے جاری تبادلہ حکم کے مطابق جج لاہوٹی 9 جون سے نئی ذمہ داری سنبھالیں گے، جب عدالتیں گرمیوں کی تعطیلات کے بعد دوبارہ کھلیں گی۔ تبادلے کا جواز یہ بتایا گیا ہے کہ تین سال کا مقررہ دورانیہ مکمل کرنے والے ججوں کا تبادلہ ایک عمومی عمل ہے۔
متاثرین کے وکیل شاہد ندیم نے الزام لگایا کہ ایسے وقت میں تبادلہ کرنا جب کیس فیصلہ کن موڑ پر ہو، انصاف کی روح کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اس معاملے کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
ان کا مزید کہنا تھا کہ جج لاہوٹی نے کیس کی باریکیوں کو سمجھا ہے، گواہوں کی جرح کی ہے اور فریقین کے دلائل کی تفصیلات سے واقف ہیں۔ ان کے تبادلے سے نیا جج تمام مواد کو سمجھنے میں وقت لے گا، جس سے فیصلہ تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، بمبئی ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ تبادلہ پانے والے ججوں کو اختیار ہے کہ وہ (الف) مکمل سماعت والے کیسز میں فیصلہ سنا دیں، اور (ب) زیر التوا معاملات کو جلد از جلد مکمل کریں۔
Published: undefined
تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مالیگاؤں دھماکہ کیس کی پیچیدگی اور ریکارڈز کے حجم کو دیکھتے ہوئے یہ ممکن نہیں لگتا کہ جج لاہوٹی اپنی نئی تعیناتی سے قبل فیصلہ سنا سکیں۔
یاد رہے کہ مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں کرنل پروہت، سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر سمیت کئی ملزمان زیر سماعت ہیں۔ یہ کیس ملک کے حساس ترین مقدمات میں سے ایک مانا جاتا ہے، جس پر پورے ملک کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر انصاف مزید تاخیر کا شکار ہوا، تو عوام کا عدلیہ پر اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ وہ عدالت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ جج لاہوٹی کو کم از کم اس کیس کے فیصلے تک موجودہ عہدے پر برقرار رکھا جائے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined