قومی خبریں

مہیلا کانگریس نے شروع کی پوسٹ کارڈ مہم، ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کو فوری نافذ کرنے کا مطالبہ

پشپا سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم اب 2029 میں اپنی سیٹ بچانے کے لیے 2011 کی مردم شماری پر مبنی بل کو نافذ کرنا چاہتے ہیں، اگر 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر تحفظات دینے ہیں تو اب ان پر عمل درآمد کیا جائے

<div class="paragraphs"><p>تصویر محمد تسلیم </p></div>

تصویر محمد تسلیم

 

نئی دہلی: ناری شکتی وندن ایکٹ میں ترمیمی بل کو لوک سبھا سے خارج کیے جانے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کانگریس پارٹی پر خواتین مخالف ہونے کا الزام لگاتے ہوئے مسلسل تنقید کر رہی ہے۔ مہیلا کانگریس بھی بی جے پی پر لگاتار حملہ کر رہی ہے تاکہ بی جے پی کو کانگریس پر بل کو روکنے کا الزام لگانے سے روکا جا سکے۔

Published: undefined

مہیلا کانگریس نے مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی سے خواتین ریزرویشن بل کو فوری نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک مہم بھی شروع کی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے مہیلا کانگریس اس معاملے پر مہم چلا رہی ہے۔ اس کے تسلسل میں جمعرات کو دہلی مہیلا کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو پوسٹ کارڈ بھیج کر ناری شکتی وندن ایکٹ کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دہلی مہیلا کانگریس کی صدر پشپا سنگھ نے کہا کہ ہماری قومی صدر الکا لامبا کی رہنمائی اور اعلیٰ قیادت اور عوام کے ہر دل عزیز لیڈرراہل گاندھی کی ایما پر ہم نے آج دہلی میں اس دو ماہ طویل پوسٹ کارڈ مہم کا آغاز کیا ہے۔ یہ مہم ملک بھر میں جاری رہے گی۔ دہلی میں تقریباً 14,000 بوتھ ہیں۔ ہر بوتھ سے 1000 پوسٹ کارڈ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجے جائیں گے، جس میں ان پر زور دیا جائے گا کہ وہ ناری شکتی وندن ایکٹ کو فوری طور پر نافذ کریں۔

Published: undefined

پشپا سنگھ نے بتایا کہ ہم نے آج گول ڈاک خانہ پوسٹ آفس سے اس پوسٹ کارڈ مہم کا آغاز کیا ہے۔ بل پر فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ لوک سبھا میں 33فیصدریزرویشن میں سے فی الحال 543 سیٹوں میں سے 180 لوک سبھا سیٹیں خواتین کے لیے ریزرو کر دی جائیں تاکہ خواتین کو آئندہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں یہ ریزرویشن مل سکے۔

دہلی مہیلا کانگریس صدر نے کہا کہ مودی حکومت خواتین کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ 2023 میں پاس ہونے والے بل میں ترمیم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ جبکہ اس بل میں پہلے ہی یہ شرط رکھی گئی تھی کہ نئی مردم شماری کے بعد حد بندی کی جائے گی اور اس کی بنیاد پر سیٹیں بڑھائی جائیں گی اور پھر خواتین کو ریزرویشن دیا جائے گا۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اب 2029 میں اپنی سیٹ بچانے کے لیے 2011 کی مردم شماری پر مبنی اس بل کو کیوں نافذ کرنا چاہتے ہیں؟ اگر 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر تحفظات دینے ہیں تو اب ان پر عمل درآمد کیا جائے۔

پشپا سنگھ نے کہا کہ پنچایتوں میں خواتین کی بھاگیداری راجیو گاندھی جی کی دین ہے۔ دہلی کے میونسپل کارپوریشنوں میں خواتین کے لیے 50 فیصد ریزرویشن شیلا دکشت کی قیادت والی کانگریس حکومت کی دین ہے۔ کانگریس نے ہمیشہ خواتین کو آگے بڑھانے کا کام کیا ہے، جب کہ بی جے پی ہمیشہ خواتین کے راستے رکاوٹ کھڑی کرتی رہی ہے۔ اس لیے اس بل میں ترمیم کرکے بی جے پی نے ایک بار پھر اسے روک دیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined