
مولانا محمود مدنی
تصویر: پریس ریلیز
نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2026 کے نافذ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی متعدد دفعات شہریوں کی آزادیٔ ضمیر، مذہبی آزادی، پرائیویسی اور شخصی خود اختیاری کے آئینی تحفظات سے متصادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی کے تحفظ کے نام پر بنایا گیا کوئی قانون خود اسی آزادی کو محدود کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ ہندوستان کی طاقت اس کی گوناگوں مذہبی اور تہذیبی شناخت میں ہے اور آئین میں دی گئی مذہبی آزادی ہر شہری کے لیے ہے۔ اگر کوئی شہری اپنے مذہب کا آزادانہ انتخاب نہیں کر سکتا تو آئین کی دفعہ 25 بے معنی ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر نے اتر پردیش، گجرات اور مدھیہ پردیش کے ماڈل کو اختیار کیا ہے، جن کے تبدیلیٔ مذہب مخالف قوانین کو جمعیۃ علماء ہند پہلے ہی سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کر چکی ہے۔ ان کے مطابق بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ’لالچ‘ (ایلیورمنٹ) اور ’فریب‘ (فراڈ) جیسی مبہم اصطلاحات کو قانون کا حصہ بنانے سے مذہب کی پُرامن تبلیغ بھی جرم کے دائرے میں آ سکتی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اہل ایمان کے لیے اخروی فلاح اور نجات کی تعلیم کو بھی ’لالچ‘ کے زمرے میں رکھنا آئین ہند کی دفعہ 25 میں حاصل ’حق تبلیغ‘ کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف ریاستوں میں ایسے قوانین کے نفاذ کے تجربے سے یہ سامنے آیا ہے کہ ان کی آڑ میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر جیل بھیجا گیا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے کہا کہ ریاست کو یہ آئینی اختیار حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ کسی شہری کے نجی ضمیر اور مذہبی انتخاب کی نگراں اور محتسب بن جائے۔ انہوں نے گزشتہ سال سپریم کورٹ کی جانب سے ظاہر کی گئی اس تشویش کا بھی حوالہ دیا جس میں مذہب کی تبدیلی سے قبل لازمی اعلان، پولیس انکوائری اور ذاتی معلومات کو منظر عام پر لانے جیسی شرائط کو شخصی آزادی پر غیر ضروری اور غیر معمولی بوجھ قرار دیے جانے کی بات سامنے آئی تھی۔
مولانا مدنی نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں تبدیلیٔ مذہب مخالف قوانین کے تجربات کی روشنی میں عدالتوں اور جمہوری اداروں کو صرف قوانین کے بیان کردہ مقاصد ہی نہیں بلکہ ان کے قانونی ڈھانچے، پس پشت اکثریتی سوچ پر مبنی مقاصد اور ان کے ممکنہ غلط استعمال کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند جبر، دھوکہ دہی یا جبری تبدیلیٔ مذہب کو روکنے کی حقیقی کوششوں کی مخالف نہیں ہے، لیکن مذہبی آزادی کے تحفظ کے نام پر کسی قانون کو مخصوص کمیونٹی کے خلاف سزا کا ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔