قومی خبریں

مہاراشٹر میں 12 سال میں 298 باگھوں کی موت، انسانی لاپرواہی پر ہائی کورٹ برہم

رپورٹ کے مطابق باگھوں کی موت کی پیچھے انسانی دخل ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہے۔ ان میں شکار، بجلی کا کرنٹ اور دیگر انسانی لاپرواہی شامل ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>باگھ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

باگھ، تصویر آئی اے این ایس

 

مہاراشٹر میں باگھوں کی مسلسل ہو رہی اموات کے حوالے سے سنگین اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ 12 سالوں میں ریاست میں مجموعی طور پر 298 باگھوں کی موت درج کی گئی ہے، جن میں سے 110 اموات براہ راست انسانی سرگرمیوں سے وابستہ بتائی جا رہی ہیں۔ اس معاملے کو لے کر بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ میں مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) داخل کی گئی ہے، جس پر عدالت نے ریاستی اور مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق باگھوں کی موت کی پیچھے انسانی دخل ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہے۔ ان میں شکار، بجلی کا کرنٹ اور دیگر انسانی لاپرواہی شامل ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 33 باگھوں کی موت صرف بجلی کے جھٹکے سے ہوئی ہے۔ یہ صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ جنگلوں میں بجلی کی لائنوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے انتظام کافی کمزو رہیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بجلی کی لائنوں کو محفوظ بنانے کی ہدایات پہلے ہی دی جا چکی ہیں، لیکن ان پر ٹھیک سے عمل نہیں ہو پایا۔ ریاست کی بجلی کمپنی ’مہاوترن‘ نے تقریباً 82.44 کروڑ روپے کے منصوبے پیش کیے تھے، لیکن فنڈ کی کمی کی وجہ سے یہ کام اب تک رکا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باگھوں کی جان کو مسلسل خطرہ لاحق ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ باگھوں کی موت کے معاملوں کی تحقیقات بھی وقت پر نہیں ہو پا رہی ہے۔ 2025 تک 92.9 فیصد معاملے اب بھی زیر التوا ہیں، جبکہ 143 مقدمات مکمل طور پر غیر حل شدہ ہیں۔ یہی نہیں نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی (این ٹی سی اے) کے اعداد و شمار پر بھی سوال اٹھے ہیں۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2021 سے 2025 کے درمیان ہوئی 16 باگھوں کی اموات کا کوئی ریکارڈ سرکاری ڈیٹا میں موجود نہیں ہے۔ سب سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ 26-2025 کے بجٹ میں باگھوں کے تحفظ کے لیے کوئی خاص فنڈ نہیں رکھا گیا۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ جب اعداد و شمار مسلسل تشویش میں اضافہ کر رہے ہیں تو پھر ان کے تحفظ کو لے کر سنجیدگی کیوں نہیں دکھائی جا رہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined