
مدراس ہائی کورٹ نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے کو پیرمبور اسمبلی حلقہ سے ان کی جیت کو چیلنج کرنے والی انتخابی عرضی کے معاملے میں نیا نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسمبلی انتخاب میں ٹی وی کے صدر وجے نے چنئی کے پیرمبور انتخابی حلقہ سے انتخاب لڑا اور 53715 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ وجے کو 120365 ووٹ ملے جبکہ ان کے قریب ترین حریف ڈی ایم کے امیدوار آر ٹی سیکر کو 66650 ووٹ ملے۔
ڈی ایم کے امیدوار آر ٹی سیکر نے پیرمبور انتخابی حلقے کے ووٹرز دنیش اور لکشمی نرسمّن کے ساتھ مل کر مدراس ہائی کورٹ میں الگ الگ انتخابی عرضیاں دائر کیں، جن میں وجے کی کامیابی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اپنی عرضی میں آر ٹی سیکر نے الزام عائد کیا کہ وجے نے اپنے نامزدگی کے کاغذات میں متضاد معلومات فراہم کی تھیں اور اپنے اثاثوں نیز زیر التوا مجرمانہ مقدمات کی تفصیلات ٹھیک سے نہیں بتائی تھیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وجے کی انتخابی کامیابی کو کالعدم قرار دیا جائے۔
اس عرضی پر سماعت جسٹس وی لکشمی نارائنن کے سامنے ہوئی۔ سماعت کے دوران آر ٹی سیکر کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل رچرڈسن ولسن نے عدالت کو بتایا کہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے اور انتخابی افسر کو نوٹس نہیں بھیجے گئے تھے، جنہیں اس کیس میں فریق بنایا گیا تھا۔ اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے جسٹس وی لکشمی نارائنن نے وزیر اعلیٰ وجے، انتخابی افسر اور دیگر فریقین کو نئے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی اور سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
دوسری جانب تمل ناڈو حکومت نے عوامی انتظامیہ میں شفافیت کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے ایک نئی مہم شروع کی ہے۔ اس کے تحت ریاست کے تمام سرکاری محکموں، ضلع انتظامیہ، مقامی اداروں، پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز (پی ایس یو) اور سرکاری ملکیت والی کمپنیوں کو نمایاں مقامات پر ایسے انسداد بدعنوانی معلوماتی بورڈ لگانے کی ہدایت دی گئی ہے، جن پر واضح طور پر لکھا ہوگا کہ رشوت دینا اور رشوت لینا دونوں ہی قابل سزا جرم ہیں۔