
تصویر سوشل میڈیا
مدھیہ پردیش کے انوپ پور ضلع کے ایک سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور اس کے بیٹے کے خلاف فراڈ کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ ہیڈ ماسٹر کا بیٹا اپنے والد کی جگہ اسکول کو پڑھاتے اور اس کا انتظام سنبھالتے ہوئے پایا گیا، جس کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق معاملہ کا اس وقت انکشاف ہوا جب انوپ پور ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) تنمے وششٹھ شرما نے ضلع ہیڈکوارٹر سے 25 کلومیٹر دور چولنا میں واقع سرکاری پرائمری اور سیکنڈری اسکول کا دورہ کیا۔ شرما نے کہا کہ معائنہ کے دوران پرنسپل چمن لال کنور اور دو دیگر مہمان اساتذہ (گیسٹ تیچرز) اسکول میں موجود نہیں تھے۔ اس کے بجائے کنور کے بیٹے راکیش پرتاپ سنگھ کو پڑھاتے ہوئے اور اسکول کا انتظام سنبھالتے ہوئے پایا گیا۔
بلاک ریسورس سینٹر کے افسر وشنو مشرا نے بتایا کہ انہوں نے پرنسپل چمن لال کنور کے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے جیت ہری تھانہ انچارج کو تحریر دی ہے۔ تحریر کی بنیاد پر تھانہ جیت ہری پولیس نے ملزم ہیڈ ماسٹر اور اس کے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
جیت ہری پولیس اسٹیشن کے انچارج راکیش دھاریا نے بتایا کہ شکایت ملی تھی کہ ہیڈ ماسٹر کی غیر موجودگی میں ان کا بیٹا غیر قانونی اور غیر مجاز طور پر اسکول چلا رہا ہے اور پڑھاتا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرنسپل چمن لال کنور اور ان کے بیٹے راکیش پرتاپ سنگھ کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔