قومی خبریں

مدھیہ پردیش: گندم کی ایم ایس پی خریداری پر کانگریس اور بی جے پی میں تکرار تیز

مدھیہ پردیش میں گندم کی ایم ایس پی خریداری کی تاریخوں میں تبدیلی پر کانگریس اور بی جے پی آمنے سامنے ہیں۔ کانگریس نے تاخیر کو کسان مخالف قرار دیا، جبکہ حکومت نے اسے عالمی حالات سے جوڑا ہے

<div class="paragraphs"><p>جیتو پٹواری / آئی اے این ایس</p></div>

جیتو پٹواری / آئی اے این ایس

 

بھوپال: مدھیہ پردیش میں گندم کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر خریداری کی تاریخوں میں بار بار تبدیلی کے معاملے پر اپوزیشن کانگریس اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے نئی معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) جاری کیے جانے کے بعد تنازع مزید بڑھ گیا ہے۔

Published: undefined

حکومت کے تازہ فیصلے کے مطابق بھوپال، اندور، اجین اور نرمداپورم ڈویژن میں گندم کی خریداری اب 7 اپریل کے بجائے 10 اپریل سے شروع ہوگی۔ اسی طرح جبل پور، گوالیار، ریوا، شہڈول، چمبل اور ساگر ڈویژن میں خریداری، جو پہلے 7 اپریل سے شروع ہونی تھی، اب بڑھا کر 15 اپریل کر دی گئی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت اس سے پہلے بھی خریداری کی تاریخیں بدل چکی ہے، جب ابتدا میں یہ عمل 16 مارچ سے شروع ہونا تھا، جسے بعد میں یکم اپریل تک مؤخر کیا گیا تھا۔

Published: undefined

کانگریس نے اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ خریداری میں تاخیر کے باعث کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں اپنی فصل کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے کہا کہ بڑی تعداد میں کسان بینک قرضوں کی ادائیگی کے لیے پریشان ہیں اور 31 مارچ کی آخری تاریخ سے پہلے انہیں اپنی پیداوار سستے داموں بیچنی پڑی۔

Published: undefined

انہوں نے مزید کہا کہ مقررہ وقت گزرنے کے بعد تقریباً 40 فیصد کسان قرض ادا نہ کر پانے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے بار بار تاریخوں میں تبدیلی کسانوں کے مفاد کے خلاف ہے اور خریداری شروع نہ ہونے کے باعث کسانوں کو ایم ایس پی سے کم قیمت پر گندم فروخت کرنی پڑ رہی ہے۔

Published: undefined

دوسری جانب بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنایا ہے۔ ریاستی بی جے پی کسان مورچہ کے سربراہ جے پال سنگھ چاوڑا نے کہا کہ کانگریس کبھی بھی کسانوں کی حقیقی خیر خواہ نہیں رہی۔ انہوں نے وضاحت دی کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے سبب اناج کی پیکجنگ میں استعمال ہونے والے پولیمر کی قلت پیدا ہوگئی ہے، جس سے بوریوں کی دستیابی متاثر ہوئی۔

Published: undefined

انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے مدھیہ پردیش کو جوٹ کی 50 ہزار اضافی بوریاں فراہم کی ہیں تاکہ خریداری کے عمل میں آسانی ہو سکے۔ چاوڑا نے یقین دلایا کہ ریاستی حکومت کسانوں کی گندم کا ایک ایک دانہ 2625 روپے فی کوئنٹل کی شرح سے خریدنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس معاملے نے ریاست کی سیاست کو گرم کر دیا ہے اور آئندہ دنوں میں اس پر مزید سیاسی بیان بازی متوقع ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined