قومی خبریں

لکھنؤ آتشزدگی: پانچ طلبہ اسپتال سے رخصت، شدید زخمی بچوں کا علاج جاری

لکھنؤ کے علی گنج واقع کوچنگ سینٹر میں آتشزدگی سانحہ میں زخمی 8 طلبہ میں سے 5 کو اسپتال سے رخصت کر دیا گیا، جبکہ دو شدید زخمی بچوں کا علاج جاری ہے۔ حکام کے مطابق بیشتر اموات دم گھٹنے کے سبب ہوئیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 
IANS

لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں واقع کوچنگ سینٹر میں ہوئی المناک آتشزدگی کے بعد اسپتال (کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی) میں زخمی طلبہ کا علاج جاری ہے۔ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاری تازہ معلومات کے مطابق معمولی زخمی ہونے والے 5 طلبہ کو اسپتال سے رخصت کر دیا گیا ہے، جبکہ دو شدید زخمی بچوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر سونیا نتیانند نے کہا کہ انتظامیہ ہر لمحہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور جن زخمیوں کو بچایا جا سکتا ہے، ان کے علاج پر پوری توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونے والوں کے پوسٹ مارٹم کا عمل بھی جاری ہے۔

Published: undefined

اسپتال کے ڈاکٹر پریم راج سنگھ کے مطابق 15 بچوں کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا تھا، جبکہ زخمی حالت میں پہنچائے گئے 8 بچوں کی حالت مستحکم ہے۔ ان کے مطابق ایک بچے کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر کا شبہ ہے، جس کی جانچ جاری ہے، جبکہ ایک طالبہ کے پیر میں بھی چوٹ آئی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق زیادہ تر اموات دم گھٹنے کے باعث ہوئیں۔

کے جی ایم یو کے ترجمان کے کے سنگھ نے بتایا کہ 5 طلبہ کو اس لیے رخصت کیا گیا کیونکہ ان کی چوٹیں زیادہ سنگین نہیں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ لوپریت نامی طالبہ کی بائیں ران میں چوٹ آئی ہے، تاہم ایکسرے میں کسی قسم کے فریکچر کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس کے اہل خانہ دہلی سے پہنچ رہے ہیں اور اس کی حالت میں بہتری کے بعد اسے بھی رخصت کیا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

انہوں نے بتایا کہ جینت نامی طالب علم عمارت کی بالائی منزل سے کودنے کے دوران لوہے کی سلاخ پر جا گرا، جس سے اس کی ریڑھ کی ہڈی اور اعصاب متاثر ہوئے ہیں۔ سی ٹی اسکین میں چوٹ اور سوجن کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ مزید علاج کے لیے ایم آر آئی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ اسے جراحی کی ضرورت ہوگی یا دواؤں کے ذریعے علاج ممکن ہوگا۔

وہیں، اس ہولناک آتشزدگی سانحے کی تحقیقات باضابطہ طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم اور فرانزک سائنس لیبارٹری کی مشترکہ ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرتے ہوئے شواہد جمع کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق، تحقیقات کے پیش نظر پوری عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے اور آگ لگنے کی وجوہات، حفاظتی معیار پر عمل درآمد اور ممکنہ غفلت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

علی گنج تھانے میں 6 افراد کے خلاف نامزد مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں سے 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم میں محکمہ ثقافت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری امریت ابھیجات اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل، لکھنؤ زون، پروین کمار شامل ہیں۔ ٹیم کو 7 دن کے اندر اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے کہا ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined