
آئی اے این ایس
امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ ایران پر یکطرفہ حملے کے بعد جوابی کارروائی کے دوران دنیا بھرمیں تیل اورگیس سپلائی کا اہم راستہ آبنائے ہرمز متاثر ہونے سے دنیا بھر میں مچی کھلبلی کا اثر ہندوستان میں محسوس کیا جارہا ہے جہاں گیس کے بحران کے حوالے سے کہرام مچ گیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں کمرشل گیس سلنڈر نہ ملنے کی وجہ سے تقریباً 20 فیصد ہوٹل بند ہوگئے ہیں اور جو کچھ کھلے ہوئے ہیں ان میں سے زیادہ تر نے کھانے کے ریٹ بڑھا دیئے ہیں۔ جس کی وجہ سے باہرکھانے پر انحصار کرنے والے بیچلر اور دیگر لوگوں کے لیے بڑی مصیبت کھڑی ہوگئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی فوڈ چین پر بھی زبردست اثر پڑا ہے۔
Published: undefined
دہلی کا دل کہا جانے والا کناٹ پلیس بھی اس بحران سے مستثنیٰ نہیں رہا ہے۔ قومی راجدھانی کے مشہور کاروباری اورسیاحتی مقام کناٹ پلیس (سی پی) کے مشہور فوڈ جوائنٹس کو بھی اس کا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ صرف بزنس ہی نہیں، لوگ بھی اب اپنے پسندیدہ ذائقے کے لیے ترسنے لگے ہیں۔ درحقیقت سی پی کے مشہور چھولے بھٹورے کی دکان پراب ’بھٹورے نہیں،صرف چاول ملے گا‘ کا بورڈ چسپاں کردیا گیا ہے۔ یہاں کی گلیوں میں دہائیوں سے ایک دکان ہے جو چھولے بھٹورے کے لیے مشہور ہے۔ کھانے کے شوقین کئی کلومیٹر دور سے یہاں صرف چھولے کے چٹکارے لینے آیا کرتے ہیں لیکن اب اس دکان کے باہر پوسٹر لگا دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہاں چاول کے علاوہ کچھ نہیں مل پائے گا۔
Published: undefined
یہ صورتحال صرف ایک دکان کی بات نہیں ہے۔ یہ اس آگ کا اثر ہے جو سینکڑوں کلومیٹر دور ایران اور اسرائیل کے درمیان لگی ہوئی ہے اور جس کی تپش دنیا کے ساتھ ساتھ ہندوستان تک پہنچ گئی ہے۔ کچھ اسی طرح کے حالات راجدھا نی کے دیگر علاقوں میں بھی پیدا ہوگئے ہیں جہاں کمرشل سلنڈر نہ ملنے کی وجہ سے کئی ہوٹل بند ہوگئے ہیں یا انہوں نے اپنے سامان کی قیمت کئی گنا بڑھا دی ہے۔
Published: undefined
راجدھانی کے لکشمی نگر میں ایک چائے فروش نے بتایا کہ کمرشیل سلنڈرمل نہیں رہا ہے اور بمشکل ملتا ہے تو جو سلنڈرایک ہفتہ پہلے 850 سے 900 روپئے میں ملتا تھا وہ آج 2500 روپئے میں خریدنا پڑا ہے۔ چائے فروش نے کہا کہ ایسی صورت میں ہمیں 10 روپئے کی چائے اب 20 روپئے کی بیچنا پڑے گی۔ بتادیں کہ کوچنگ اور کمرشل سرگرمیوں کا مرکز ہونے کی وجہ سے لکشمی نگرعلاقے میں باہری طلبا کی اکثریت ہے جو کرائے کی رہائش اور باہر کھانے پر انحصار کرتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ایسے طلبا اور مزدور پیشہ افراد کو سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined