.jpg?rect=0%2C0%2C2000%2C1125)
مغربی ایشیا میں جاری بحران نے پوری دنیا کو بے حال کر رکھا ہے۔ اس بحران کے سبب سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہو چکی ہیں اور گزشتہ ماہ ہندوستان میں ایل پی جی کا استعمال تیزی سے کم ہوا ہے۔ خبروں کے مطابق اس مارچ ماہ میں ایل پی جی کا استعمال تقریباً 13 فیصد کم ہو کر 23.79 لاکھ ٹن رہ گیا جو کہ پچھلے سال مارچ ماہ میں 27.29 ملین ٹن تھا۔
Published: undefined
پیٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالیسس سیل (پی پی اے سی) کے مطابق مارچ میں گھریلو ایل پی جی کی سپلائی 8.1 فیصد کم ہو کر 22.19 لاکھ ٹن رہ گئی جبکہ غیر گھریلو صارفین کو دی جانے والی سپلائی میں 48 فیصد کی بھاری کمی درج کی گئی۔ ہول سیل ایل پی جی کی فروخت میں بھی 75 فیصد کمی ہوئی۔ دریں اثنا 39,000 سے زیادہ پی این جی صارفین نے اپنے ایل پی جی کنکشن سرنڈر کر دیے ہیں۔
Published: undefined
دوسری طرف مارچ میں ہوابازی کے ایندھن کا استعمال تقریباً مستحکم رہا اور یہ تقریباً 8.07 لاکھ ٹن ریکارڈ کیا گیا، جو پچھلے سال کے تقریباً برابر ہے۔ دوسری جانب پٹرول اور ڈیزل کی مانگ مضبوط رہی۔ مارچ میں پٹرول کا استعمال 7.6 فیصد بڑھ کر 37.8 لاکھ ٹن ہو گیا، جبکہ ڈیزل کا استعمال 8.1 فیصد بڑھ کر 87.27 لاکھ ٹن ہو گیا۔
Published: undefined
معلوم ہو کہ ہندوستان اپنی ایل پی جی کی کل ضروریات کا تقریباً 60 فیصد درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، جس کا ایک اہم حصہ آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی کی وجہ سے اس اہم آبی گزرگاہ میں ناکہ بندی کی گئی ہے، جس کی وجہ سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ صورتحال کو سنبھالنے کے لیے حکومت نے گھریلو صارفین کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے ہوٹلوں، صنعتوں اور دیگر تجارتی شعبوں کو ایل پی جی کی سپلائی میں کمی کر دی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined