
اننت ناگ: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی، آر ایس ایس اور دیگر بھگوا جماعتیں جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کر کے اس کے مسلم اکثریتی کردار کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں نے رواں پارلیمانی انتخابات میں دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو ختم کرنا اپنی انتخابی مہم کا بنیادی ایجنڈا بنا رکھا ہے۔
عمر عبداللہ نے اتوار کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے عشمقام میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: 'موجودہ انتخابات میں ہمارے دشمنوں نے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن، دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو ختم کرنا بنیادی ایجنڈا بنا رکھا ہے۔ یہاں کے عوام کو دشمنوں کے ان ناپاک اداروں کو خاک میں ملانا ہوگا اور گھر بیٹھے بیٹھے ہم اس میں کامیاب نہیں ہوسکتے، ہمیں ہمت اور حوصلہ کرکے پولنگ بوتھوں تک جاکر اپنے ووٹ کا استعمال کرنا ہوگا۔ موجودہ انتخابات میں عوام کی بھر پور شرکت میں ہی ہمارے بہتر اور محفوظ مستقبل کا راز مضمر ہے'۔
وارانسی (بنارس) سے وزیر اعظم مودی کے خلاف انتخابی میدان میں اترنے کو لے کر کانگریس کی جنرل سکریٹری نے بیان دیا ہے۔ جب میڈیا کی طرف سے ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بنارس سے چناؤ لڑیں گی، تو پرینکا نے کہا، ’’اگر کانگریس صدر مجھے چناؤ لڑنے کے لئے کہیں گے تو مجھے وہاں سے چناؤ لَڑنے میں خوشی ہوگی۔‘‘
ریٹائرڈ جنرل لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہڈا کی طرف سے تیار کئے گئے ویزن ڈاکیومنٹ کو کانگریس پارٹی کی طرف سے سرکشت بھارت (محفوظ بھارت) کے نام سے جاری کر دیا ہے۔ اس موقع پر دہلی میں کانگریس کے صدر دفتر میں ایک پریس کانفرنس رکھی گئی، جس میں لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہڈا، کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم اور جے رام رمیش موجود تھے۔ ویزن ڈاکیومنٹ میں کیا ہے اس حوالہ سے جنرل ڈی ایس ہڈا نے تفصیلی معلومات دی۔
عام آدمی پارٹی نے لوک سبھا انتخابات کے لئے نئی نئی فہرست جاری کر دی ہے۔۔ اس میں ہریانہ کے لئے تین امیداروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ پارٹی کی طرف سے نوین جے ہند کو فرید آباد سے امیدوار بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پرتھوی راج کو انبالہ اور کرشن کمار اگروال کو کرنال سے امیدوار بنایا گیا ہے۔
بھوپال لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی کی امیدوار پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے یکے بعد دیگرے آگ اگلتے بیانات کے درمیان بھوپیش بگھیل کے ان کے کردار کے حوالہ سے کئی اہم انکشافات کئے ہیں۔
چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے کہا، ’’پرگیہ ٹھاکر، عادتاً مجرموں جیسا ان کا سلوک رہا ہے، 19 سال پہلے انہوں نے یہاں چاقو بازی کی تھی، مار پیٹ کی تھی، تھوڑی ٹھوڑی باتوں پر جھگڑا کرتی تھی، یعنی وہ جھگڑالو عادت کی شروع سے رہی ہے۔‘‘
قبل ازیں الیکشن کمیشن کی طرف سے پرگیہ ٹھاکر کے خلاف مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹ جاری کیا گیا۔ پرگیہ سے ایک دن اندر نوٹس کا جواب دے کر اپنے بابری مسجد سے متعلق بیان پر وضاحت پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پرگیہ ٹھاکر نے ایودھیا کے حوالہ سے زہار اگلتے ہوئے کہا تھا، ’’میں نے بابری مسجد پر چڑھ کر اسے منہدم کیا تھا، میں اب بھی ایودھیا جاؤں گی اور رام مندر کی تعمیر میں مدد کروں گی۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 21 Apr 2019, 12:10 PM IST
تصویر: پریس ریلیز