قومی خبریں

آبنائے ہرمز سے ’ایل این جی‘ سپلائی بحال، مرکزی حکومت نے واپس لیے ایمرجنسی گیس سپلائی کے قانون

پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے کہا کہ مغربی ایشیا میں حالات کافی بہتر ہوئے ہیں، وہاں جنگ بندی نافذ ہے، بات چیت چل رہی ہے اور آبنائے ہرمز سے سمندری آمد و رفت پھر سے شروع ہو گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز (فائل فوٹو)</p></div>

آبنائے ہرمز (فائل فوٹو)

 

مرکزی حکومت نے مغربی ایشیا میں کشیدگی کے دوران نافذ کیے گئے ایمرجنسی گیس سپلائی ریگولیشن آرڈر کی بیشتر دفعات واپس لے لیے ہیں۔ حکومت نے یہ فیصلہ امریکہ-ایران میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی پھر سے شروع ہونے اور سپلائی کی صورتحال میں بہتری کے پیش نظر لیا۔ پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ایک آفیشیل نوٹیفکیشن میں ’نیچرل گیس (سپلائی ریگولیشن) آرڈر، 2026‘ میں تبدیلی کی ہے۔ اس کے تحت ان اہم قوانین کو ہٹا دیا گیا ہے، جن کے ذریعہ حکومت ترجیحی صارفین کی فہرست کی بنیاد پر ملک میں پیدا ہونے والی گیس اور درآمد شدہ ایل این جی کی تقسیم کو کنٹرول کرتی تھی۔

Published: undefined

وزارت نے کہا کہ مغربی ایشیا میں حالات کافی بہتر ہوئے ہیں، وہاں جنگ بندی نافذ ہے، بات چیت چل رہی ہے اور آبنائے ہرمز سے سمندری آمد و رفت پھر سے شروع ہو گئی ہے۔ اس اہم سمندری راستے سے شپنگ بحال ہونے کے باعث ہندوستان کو ایندھن اور گیس کی سپلائی کو لے کر تشویش کم ہوئی ہے۔ مغربی ایشیا میں تنازعہ کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے ایل این جی شپمنٹ میں رکاوٹ آنے کے بعد ’ضروری اشیاء کے قانون‘ کے تحت ایمرجنسی گیس سپلائی کے قوانین نافذ کیے گئے تھے۔ یہ رکاوٹ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان فوجی تصادم کے باعث آئی تھی، جس سے کچھ ایل این جی سپلائرز کو ’فورس میجر‘ کا سہارا لینا پڑا اور کارگو کا راستہ بدلنا پڑا، جس سے ہندوستان میں گیس کی دستیابی کو لے کر تشویش بڑھ گئی تھی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ گیس سپلائی پر یہ پابندیاں حکومت کی جانب سے گھریلو توانائی کی سپلائی کو محفوظ رکھنے کے لیے اٹھائے گئے 3 ایمرجنسی اقدامات کا حصہ تھیں۔ باقی 2 اقدامات پیٹرو کیمیکل یونٹس سے فیڈ اسٹاک کو ہٹا کر ایل پی جی کی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے ریفائنریوں کو ہدایت دینا اور ہول سیل صارفین کو ڈیزل کی فروخت پر روک لگانا تھے، جنہیں سپلائی کی صورتحال معمول پر آنے کے بعد پہلے ہی واپس لے لیا گیا تھا۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور اپنی خام تیل کی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد اور قدرتی گیس کی کھپت کا تقریباً نصف حصہ درآمد کرتا ہے۔ ملک کی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً 40 سے 45 فیصد اور ایل این جی سپلائی کا تقریباً 65 فیصد حصہ مغربی ایشیا سے آتا ہے، جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز ہندوستان کی توانائی کی حفاظت کے لیے ایک اہم راستہ بن جاتا ہے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined