
کسان تحریک کو کمزور کرنے کے لیے پولس کارروائی کے خلاف کانگریس سمیت کئی پارٹیوں کے لیڈرا آواز اٹھا رہے ہیں۔ اب ہندوستان کے سابق کرکٹر ہربھجن سنگھ نے بھی کسانوں کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ انھوں نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’کسان ہمارا اَن داتا ہے۔ ہم کو ’اَن داتا‘ کو تھوڑا وقت دینا چاہیے۔ کیا یہ واجب نہیں ہوگا، بغیر پولس تصادم کے کیا ہم ان کی بات نہیں سن سکتے۔ برائے کرم کسان کی بھی سنیے۔ جے ہند۔‘‘
دہلی میں داخل ہونے کے لیے سنگھو بارڈر پر بڑی تعداد میں جمع کسان پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ہفتہ کی صبح کا انتظار کر رہے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں کیونکہ 6 مہینے کا کھانا ساتھ لائے ہیں۔ ایک کسان نے کہا کہ ’’جب تک تینوں زرعی قوانین واپس نہیں لے لیے جاتے، اس وقت تک ہم واپس نہیں ہوں گے۔‘‘ سنگھو بارڈر پر کسانوں نے ڈیرا جما لیا ہے اور وہیں پر کھانے پینے کا انتظام بھی کر لیا ہے۔ سبھی کسان بیٹھ کر آگے کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔
کسانوں کو دہلی کے براڑی واقع نرنکاری سماگم گراؤنڈ میں مظاہرہ کرنے کی اجازت ضرور مل گئی ہے، لیکن کئی مقامات پر دہلی میں داخل ہونے کے لیے اب بھی کسان انتظار کر رہے ہیں۔ سندھو بارڈر پر بھی کسانوں کی ایک بڑی تعداد شام کے بعد بیٹھی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ کچھ کسان وہاں پر چائے اور کھانے کی چیزیں بناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کئی کسانوں کی رات سندھو بارڈر پر ہی گزرے گی۔ دیکھیے تصویریں...
چندی گڑھ: ہریانہ کے سابق وزیر اعلی اور اپوزیشن لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا نے کہا ہے کہ کسانوں کے مطالبات پوری طرح جائز ہونے کے سبب کانگریس ان مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے ریاست کے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن احتجاج کرنے والے کسانوں کی ہر ممکن مدد کے لئے آگے آئیں۔ مسٹر ہڈا نے آج یہاں کہا کہ پنجاب یا ہریانہ کے مختلف علاقوں سے دہلی جانے والے کسانوں کو کھانے پینے کے انتظامات کیے جائیں اور ان کے قیام اور سونے کے لئے بھی تمام انتظامات کیے جائیں۔ شدید سردی میں پانی کی بوچھاریں یا آنسو گیس کے گولوں کی وجہ سےمتاثرہ کسانوں کو طبی امداد یا علاج میں ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔
دہلی پولس نے کسانوں کو براڑی واقع نرنکاری سماگم گراؤنڈ میں پرامن مظاہرہ کرنے کی اجازت دے دی ہے، لیکن کئی کسان وہاں جانے سے انکار کر رہے ہیں۔ سندھو بارڈر پر موجود کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ براڑی نہیں جائیں گے۔ چونکہ دہلی پولس نے براڑی کے علاوہ دیگر کسی مقام پر کسانوں کے جانے پر پابندی لگا رکھی ہے، اس لیے حالات کشیدہ ہو رہے ہیں۔ دہلی پولس نے یہ بھی کہا ہے کہ نرنکاری گراؤنڈ میں جہاں کسانوں کو مظاہرے کی اجازت ملی ہے، وہاں پولس جوان بھی تعینات رہیں گے۔
دہلی پولیس کمشنر نے کہا، ’’مظاہرہ کر رہے کسانوں کو قومی راجدھانی میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ انہیں براڑی علاقہ میں نرنکاری سماگم میدان میں احتجاج کرنے کی اجازت ہوگی۔ کسانوں سے اپیل ہے کہ وہ امن برقرار رکھیں۔‘‘
تمام تصاویر قومی آواز / وپن
میڈیا رپوروں میں کہا جا رہا ہے کہ کسانوں کو سنگھو بارڈر کو پار کرنے کی اجازت مل گئی ہے، تاہم کسانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کسان صرف سنگھو بارڈر سے ہی داخل ہو سکتے ہیں اور دہلی پولیس کی ایک ٹیم ان کے ساتھ رہ کر ان پر نظر رکھے گی۔
دہلی جانے کی اجازت ملتے ہی کسانوں نے بڑی تعداد میں بارڈر پار کرنے کی کوشش کی، دریں اثنا ایک مرتبہ پھر جھڑپ شروع ہو گئی۔ پولیس کسانوں کو تتر بتر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغ رہی ہے جبکہ کسان پویس پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔ آخری اطلاع موصول ہونے تک سنگھو بارڈر پر حالت کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 27 Nov 2020, 2:31 PM IST