قومی خبریں

لال کرشن اڈوانی آج اسپتال سے ہوں گے ڈسچارج، چیسٹ انفیکشن کی وجہ سے ہوئے تھے داخل

نیورولوجی کے سینئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر ونے سوری کی نگرانی میں لال کرشن اڈوانی کا علاج ہوا۔ اسپتال نے بتایا کہ فی الحال ان کی حالت میں بہتری ہے اور آج انہیں ڈسچارج کر دیا جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>اڈوانی (فائل)، تصویر 'ایکس'</p></div>

اڈوانی (فائل)، تصویر 'ایکس'

 

سابق نائب وزیر اعظم اور بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی آج اسپتال سے ڈسچارج ہونے والے ہیں۔ چند روز قبل چیسٹ انفیکشن کی شکایت کے بعد انہیں دہلی کے اپولو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ 16 اکتوبر بروز جمعہ انھی کی طبیعت کچھ زیادہ ناساز ہو گئی تھی، جس کے بعد فوری طور پر انھیں اسپتال میں داخل کرانے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔ نیورولوجی کے سینئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر ونے سوری کی نگرانی میں ان کا علاج ہوا۔ اب اسپتال کا کہنا ہے کہ فی الحال ان کی حالت میں بہتری ہے اور آج انہیں ڈسچارج کر دیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کو اسپتال میں داخل کرائے جانے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے 7 اکتوبر کو نئی دہلی میں ان کی رہائش پر ملاقات کی تھی۔ اس دوران مودی نے حکومت کے سربراہ کے طور پر 25 سال مکمل ہونے پر اڈوانی سے آشیرواد لیا تھا۔ سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ بھی جاری کی تھی۔ اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ اڈوانی کی کئی دہائیوں پر محیط عوامی خدمات نے ان پر گہری چھاپ چھوڑی ہے۔

اس پوسٹ میں وزیر اعظم مودی نے ملک کی ترقی کو مستحکم بنانے میں اڈوانی کے اہم کردار کا بھی ذکر کیا تھا۔ دیکھا جائے تو لال کرشن اڈوانی کا سیاسی کیریئر کافی طویل رہا ہے۔ وہ کئی بار بی جے پی کے قومی صدر رہے اور 2002  سے 2004  تک ملک کے نائب وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات و نشریات جیسے اہم عہدوں کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ بی جے پی کو ایک بڑی قومی سیاسی طاقت بنانے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اڈوانی 4 بار راجیہ سبھا اور 7 بار لوک سبھا کے رکن بھی رہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔