
مزار کی علامتی تصویر
تصویر: محمد تسلیم
لکھنؤ واقع کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) انتظامیہ نے احاطہ کے اندر بنی 5 ناجائز مزاروں کو ہٹانے کے لیے پیر کے روز دوسرا نوٹس جاری کیا۔ اس سے قبل 22 جنوری کو مجموعی طور پر 6 مزاروں کو نوٹس دیا گیا تھا، جن میں سے صرف نیو آرتھوپیڈک احاطہ واقع مزار کمیٹی نے جواب دیا۔ بقیہ 5 کمیٹیوں کے ذریعہ خاموشی اختیار کرنے پر اب انھیں 28 فروری کو رجسٹرار کے سامنے پیش ہونے کا آخری موقع دیا گیا۔
Published: undefined
کے جی ایم یو ترجمان ڈاکٹر کے کے سنگھ کے مطابق یہ مزاریں کے جی ایم یو کے سابق ملازمین کی ہیں جنھیں اہل خانہ نے خالی زمین پر دفن کر بعد میں ناجائز طریقے سے مزار بنا دیا تھا۔ کے جی ایم یو انتظامیہ نے جن مقامات پر مزاروں کو نشان زد کیا ہے، ان میں کوین میری ہاسپیٹل احاطہ، مائیکرو بایولوجی ڈپارٹمنٹ، نیو بوائز ہاسٹل، ریسپریٹری میڈیسن ڈپارٹمنٹ اور شتابدی فیز-2 ہاسپیٹل احاطہ شامل ہیں۔
Published: undefined
کے جی ایم یو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کو وسعت دی جا رہی ہے اور اسے اس زمین کی سخت ضرورت ہے۔ چونکہ یہ تعمیرات 30 سے 40 سال قدیم ہیں اور ناجائز طریقے سے بنائی گئی ہیں، اس لیے انھیں ہٹانا ضروری ہو گیا ہے۔ ایڈمنسٹریشن ذرائع کے مطابق کے جی ایم یو اور ضلع انتظامیہ نے مشترکہ طور سے ناجائز مزاروں کو منہدم کرنے کا خاکہ تیار کر لیا ہے۔ اگر 15 دنوں کے اندر تجاوزات کو نہیں ہٹایا گیا تو آخری نوٹس کے بعد بلڈوزر چلایا جائے گا۔ آرتھوپیڈک سپر اسپیشلٹی بھون اور ٹی جی ہاسٹل کے پاس موجود مزاروں سے متعلق صورت حال بھی واضح کر دی گئی ہے۔ نوٹس کی میعاد پوری ہوتے ہی کے جی ایم یو احاطہ کو ان ناجائز تعمیرات سے پاک کرانے کے لیے پولیس فورس کے ساتھ انہدامی کارروائی کی جائے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز
تصویر: محمد تسلیم