ملکارجن کھڑگے، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بدھ کو وزیراعظم نریندر مودی کے ’دماغی نکسل‘ والے بیان کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس ووٹ چوری اور بھارتی مفادات کو بیرونی طاقتوں کے سامنے گروی رکھنے سے متعلق سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کو کھلی بحث کا چیلنج بھی دیا۔
کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ مودی اپنا ناکام ہو چکا ’دماغی نکسل‘ والا جملہ بار بار دہرا رہے ہیں، جبکہ وہ راہل گاندھی کی اس کھلی دعوت کا جواب نہیں دے رہے کہ بھارتی مفادات کو بیرونی طاقتوں کے حوالے کرنے کے معاملے پر گفتگو کی جائے۔
کانگریس صدر نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا کہ تین کروڑ ووٹر درانداز ہیں۔ کھڑگے نے پوچھا کہ شاہ کئی برس سے وزیر داخلہ ہیں، تو اس عرصے میں وہ کیا کر رہے تھے اور مبینہ غیر قانونی افراد کو بھارت میں داخل ہونے سے کیوں نہ روک سکے۔ انہوں نے شاہ کو اس معاملے میں نااہلی پر برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔
کھڑگے نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) پر الیکشن کمیشن کے موقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کمیشن اس عمل کے بارے میں پانچ مرتبہ اپنا مؤقف بدل چکا ہے۔ انہوں نے فارم 6 میں مکمل تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی تبدیلی کو ساتھی انتخابی کمشنروں نے ’غیر قانونی‘ قرار دیا تھا۔ کھڑگے نے سوال کیا کہ یہ تبدیلی کیوں کی گئی۔
پارلیمان کی کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ اجلاس ختم ہوئے 83 دن سے زیادہ گزر چکے ہیں، لیکن اسے باضابطہ طور پر غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی نہیں کیا گیا۔ کھڑگے کے مطابق اگلا اجلاس قریب ہونے کے باوجود حکومت اب خصوصی اجلاس بلانا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے مواخذے کی عوامی مہم اور رام لیلا میدان میں ’ووٹ بچاؤ‘ ریلی نے مودی اور شاہ کو پریشان کر دیا ہے۔ کانگریس صدر نے وزیراعظم پر پارلیمان میں نہ آنے اور ایک بھی کھلی پریس کانفرنس نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اب انہیں سوالوں کا سامنا کرنا اور بحث میں حصہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مودی ملک کو بتائیں کہ ووٹ چوری کیوں کی گئی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔