
راجیہ سبھا میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب
کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے ایوان بالا میں جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ پر جان لیوا حملے کی کوشش کا معاملہ اٹھاتے ہوئے وہاں کی سکیورٹی صورتحال پر سخت سوالات کھڑے کیے اور مرکز سے جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاستی درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔
راجیہ سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ جموں و کشمیر میں فاروق عبداللہ پر حملہ کیا گیا اور اس واقعہ نے وہاں کے حالات پر سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات تشویشناک ہے کہ ایک اہم سیاسی رہنما کی سکیورٹی اس طرح خطرے میں پڑ گئی۔
Published: undefined
کھڑگے نے کہا کہ پہلے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل تھا اور وہاں کی پولیس اور سکیورٹی کا نظام مقامی انتظامیہ کے تحت کام کرتا تھا لیکن اب وہاں کی سکیورٹی براہ راست مرکزی وزارت داخلہ کے کنٹرول میں ہے۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے وہاں کے حالات میں بگاڑ آیا ہے اور امن و قانون کی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ جب سے جموں و کشمیر سے ریاستی درجہ ختم کیا گیا ہے، تب سے وہاں قانون و انتظام کی صورتحال کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اہم سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ کھڑگے نے کہا کہ اگر اس واقعہ میں معمولی سی بھی تاخیر ہو جاتی تو نتیجہ انتہائی سنگین ہو سکتا تھا۔
Published: undefined
انہوں نے حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی فاروق عبداللہ کو محفوظ رکھنا چاہتی تھی تو انہیں مکمل سکیورٹی فراہم کی جانی چاہیے تھی۔ کھڑگے نے کہا کہ اگر موجودہ انتظامیہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی تو وہاں جلد از جلد ریاستی درجہ بحال کیا جانا چاہیے۔
ملکارجن کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات میں جموں و کشمیر کے لوگ خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق جو لوگ سیکولرزم، سوشلسزم اور ملک کی یکجہتی کی بات کرتے ہیں انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ فاروق عبداللہ پر جموں میں ایک شادی کی تقریب کے دوران اس وقت حملے کی کوشش کی گئی جب انہوں نے وہاں سے واپسی کا رخ کیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک شخص بھری ہوئی پستول کے ساتھ ان کے قریب پہنچ گیا اور فائرنگ کی کوشش کی، تاہم قریب موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنا دیا۔
اس واقعہ میں فاروق عبداللہ محفوظ رہے، جبکہ پولیس نے فائرنگ کے الزام میں کمل سنگھ جاموال نامی شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور پورے واقعہ کی مختلف زاویوں سے جانچ جاری ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس واقعہ کے بعد سکیورٹی انتظامات کو لے کر بحث تیز ہو گئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined