قومی خبریں

پریس کانفرنس میں کھڑگے اور راہل گاندھی کا حکومت پر حملہ، کہا- ’پی ایم اور وزیر داخلہ کی خاموشی ملک کے لیے ٹھیک نہیں‘

پریس کانفرنس میں ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی نے حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے طلبہ پر تشدد، رام مندر ٹرسٹ میں چندہ چوری اور پی ایم سے معافی سمیت 3 مطالبات دہرائے

<div class="paragraphs"><p>کانگریس کی پریس کانفرنس / قومی آواز / وپن</p></div>

کانگریس کی پریس کانفرنس / قومی آواز / وپن

 

نئی دہلی: کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پیر کو مرکزی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے احتجاج، رام مندر ٹرسٹ سے متعلق چندہ چوری اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے معافی مانگنے کے مطالبات پر اپوزیشن اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ یہ تینوں مطالبات ان کے لیے ’’ناقابلِ مذاکرات‘‘ ہیں۔

نئی دہلی میں کانگریس کے میڈیا بائٹ کے دوران ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہونے کے پہلے دن سے ہی اپوزیشن نے اپنی مانگیں مضبوطی سے رکھی ہیں۔ ان کے مطابق پہلی مانگ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ایوان میں آ کر دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر وضاحت دینے سے متعلق ہے۔

کھڑگے نے الزام لگایا کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران پیلٹ گنز کا استعمال کیا گیا، آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور لاٹھی چارج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی تھی کہ اس معاملے پر ایوان میں بحث ہو اور وزیر داخلہ اس کا جواب دیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپر لیک کے معاملے پر بھی اپوزیشن پہلے سے بحث کا مطالبہ کرتی رہی ہے، لیکن حکومت کی جانب سے کئی دن تک اس معاملے پر کوئی بات نہیں کی گئی۔

کھڑگے نے رام مندر ٹرسٹ سے متعلق معاملے کو اپوزیشن کی دوسری بڑی مانگ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے رام مندر ٹرسٹ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، اس کے ارکان کے انتخاب اور ٹرسٹ کے طریقہ کار میں بھی ان کا کردار رہا۔ ان کے مطابق رام مندر سے متعلق مبینہ چوری کے معاملے میں سخت کارروائی ہونی چاہیے اور وزیر اعظم کو خود اس پر وضاحت دینی چاہیے۔

کانگریس صدر نے کہا کہ لاکھوں لوگوں کی رام مندر اور ایودھیا میں عقیدت ہے، اس لیے وہاں کسی بے ضابطگی کا معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاملے پر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ دونوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن کی تیسری مانگ وزیر اعظم کی جانب سے عوام سے معافی مانگنے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے خلاف کارروائی اور رام مندر سے متعلق معاملے پر حکومت کو جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن ان تینوں مطالبات کو لے کر ہی پارلیمنٹ میں احتجاج کر رہی ہے۔

اس کے بعد راہل گاندھی نے بھی حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی اصل مانگ یہ نہیں ہے کہ وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں کسی بھی عام موضوع پر تقریر کریں، بلکہ وہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر کارروائی کا حکم کس نے دیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ اگر وزیر داخلہ نے طلبہ پر کارروائی کا حکم دیا تھا تو انہیں اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، اور اگر انہیں اس کارروائی کی اطلاع نہیں تھی تو یہ ان کی نااہلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کو جواب دینا ہوگا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ گزشتہ 15 دن سے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے اس معاملے پر اپوزیشن کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ میں پارلیمنٹ میں آ کر اپوزیشن کے سامنے جواب دینے کی ’ہمت‘ نہیں ہے۔

جھارکھنڈ میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی سے متعلق سوال پر راہل گاندھی نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف کسی بھی طرح کے تشدد کی کانگریس مذمت کرتی ہے، چاہے یہ کہیں بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کو تشدد کے ذریعے دبانا قابل قبول نہیں ہے۔

راہل گاندھی نے ایک بار پھر کہا کہ اپوزیشن کا مطالبہ واضح ہے، حکومت بتائے کہ طلبہ پر گولی چلانے یا کارروائی کا حکم کس نے دیا، وزیر اعظم اس معاملے پر معافی مانگیں اور رام مندر ٹرسٹ سے متعلق چوری کے معاملے پر بحث ہو۔ ان کے مطابق ان مطالبات پر اپوزیشن کا موقف شروع سے اب تک تبدیل نہیں ہوا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔