
گرافکس ’ایکس‘ @kharge
’قومی یومِ پنچایتی راج‘ (24 اپریل) کے موقع پر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے پورے ملک کو نیک خواہشات پیش کی ہیں۔ دونوں ہی لیڈران نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں پنچایت راج کی اہمیت ظاہر کی ہے اور پنچایتوں میں خواتین کو دیے گئے ریزرویشن کا ذکر کرتے ہوئے اس کے فوائد بھی ظاہر کیے ہیں۔
Published: undefined
کانگریس صدر نے اپنی پوسٹ میں مہاتما گاندھی کا ایک قول (پنچایتی راج حقیقی جمہوریت کی نمائندگی کرتا ہے) پیش کرتے ہوئے سبھی ملکی باشندوں کو ’قومی یومِ پنچایتی راج‘ کی مبارکباد دی ہے۔ بعد ازاں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’پنچایتی راج ادارے ہماری جمہوریت کی مضبوط بنیاد ہیں۔ ہندوستان کی حقیقی طاقت گاؤں میں بستی ہے، اس لیے گاؤں کی مضبوط ترقی ہی ملک کی ترقی کا راستہ ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’مہاتما گاندھی اور ونوبا بھاوے کے ’گرام سوراج‘ کے نظریات سے متاثر ہو کر راجیو گاندھی کی کوششوں سے کانگریس نے 73واں آئین ترمیم نافذ کیا، جس سے پنچایتی راج کو ادارہ جاتی مضبوطی ملی اور جمہوریت زمینی سطح تک پہنچی۔‘‘
Published: undefined
اس پوسٹ میں خواتین کے ریزرویشن کا ذکر کرتے ہوئے کھڑگے نے لکھا ہے کہ ’’آج ملک کی پنچایتوں میں 33 فیصد خواتین ریزرویشن صرف کانگریس کی وجہ سے ہے۔ کہیں کہیں یہ 50 فیصد تک ہے۔ اس وجہ سے 15 لاکھ خواتین پنچایتوں کا حصہ ہیں اور زمینی سطح پر اپنا سیاسی تعاون پیش کر رہی ہیں۔ دوسرے کسی بھی ملک میں اتنی خواتین زمینی سیاست سے نہیں جڑی ہیں۔ یہ ہندوستان کے لیے بڑی حصولیابی ہے۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 2010 میں اس دن کو ’قومی یومِ پنچایتی راج‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ کانگریس پارٹی گرام سوراج کے جذبہ کو مضبوط کرنے کے لیے پوری طرح وقف ہے۔‘‘
Published: undefined
دوسری طرف کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’پنچایت راج مہاتما گاندھی کے گرام سوراج کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی سمت میں ایک مضبوط بنیاد رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ہندوستان کے گاؤں کو مضبوط بناتے ہوئے انھیں ملک کے اصل دھارے سے جوڑا۔ انھوں نے ہر طبقہ کو حقوق دلائے اور پنچایتی راج نظام کے ذریعہ سے عوامی شراکت داری کو یقینی کیا۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’پنچایتی راج خواتین کی خود مختاری کا بھی ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ 1993 سے 73ویں آئین ترمیم کے ذریعہ پنچایتی راج اداروں میں خواتین کے لیے کم از کم 33 فیصد ریزرویشن یقینی کیا گیا۔ آج کئی ریاستوں میں یہ بڑھا کر 50 فیصد تک کر دیا گیا ہے۔ کانگریس کی اس تاریخی پیش قدمی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک بھر میں تقریباً 14 سے 15 لاکھ منتخب خواتین نمائندہ پنچایتی راج اداروں میں فعال کردار نبھا رہی ہیں، جو دنیا میں خواتین کی سب سے بڑی جمہوری شراکت داری میں سے ایک ہے۔‘‘
Published: undefined
راہل گاندھی نے پنچایتی راج نظام میں خواتین کی موجودگی کو بہت اہم قرار دیا ہے۔ انھوں نے ’قومی یومِ پنچایتی راج‘ کے موقع پر کی گئی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’پنچایتی راج نظام نے ملک کی خواتین کو قیادت کرنے اور سیاست میں اپنی شراکت داری یقینی بنانے کا سنہرا موقع فراہم کیا ہے۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں انھوں نے ملک کے سبھی مکھیا، پنچوں اور مقامی بلدیوں کے اراکین کو یومِ پنچایتی راج کی نیک خواہشات بھی پیش کیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined