قومی خبریں

مغربی ایشیا کی جنگ اور ایل پی جی بحران پر پارلیمنٹ میں بحث ہو، وزیر اعظم جواب دیں: ملکارجن کھڑگے

کھڑگے نے مغربی ایشیا کی جنگ اور ملک میں ایل پی جی بحران کے معاملے پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وزیر اعظم مودی کو ایوان میں جواب دینا چاہیے کیونکہ عوام کو حقیقت جاننے کا حق ہے

<div class="paragraphs"><p>کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / تصویر آئی این سی</p></div>

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / تصویر آئی این سی

 

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بدھ کے روز مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور ملک میں رسوئی گیس کی قلت کے مسئلے پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس معاملے پر ایوان میں آ کر جواب دینا چاہیے کیونکہ ملک کے عوام کو حقیقت جاننے کا پورا حق حاصل ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے کی جا رہیں نام نہاد ذرائع پر مبنی یقین دہانیاں دراصل اس کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق مغربی ایشیا میں ممکنہ جنگ کے بارے میں پہلے ہی اندازے موجود تھے لیکن اس کے باوجود حکومت نے ہندوستان کی توانائی سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔

Published: undefined

کھڑگے نے کہا کہ اب صورتحال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے اور عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کھڑگے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایندھن کی کمی کے باعث زرعی سرگرمیوں اور کھاد کی فراہمی پر منفی اثر پڑ رہا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان کسانوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق کئی علاقوں میں ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی محدود ہوگئی ہے، گیس حاصل کرنے کے لیے لمبی قطاریں لگ رہی ہیں اور بعض مقامات پر گھریلو سلنڈر کے لیے پچیس دن تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی سلنڈروں کی قلت بھی سنگین صورت اختیار کر رہی ہے۔

کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ گیس کی کمی کے سبب کئی ریسٹورنٹ اور چھوٹے کھانے کے مراکز بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں جس سے عوامی مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں۔

Published: undefined

کھڑگے نے اپنی پوسٹ میں ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی کے دوران حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ پچاس دن کے اندر نقدی کی قلت ختم ہوجائے گی، جبکہ کورونا وبا کے دوران بھی ابتدا میں اس بحران کو سنجیدہ مسئلہ نہیں بتایا گیا تھا۔ ان کے مطابق اب مغربی ایشیا کی کشیدگی کے دوران بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ ہندوستان کے پاس چوہتر دن کا تیل اور توانائی کا ذخیرہ موجود ہے، لیکن زمینی حالات مختلف نظر آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے پر پارلیمنٹ میں مکمل بحث ہونی چاہیے اور وزیر اعظم کو ایوان میں آکر ملک کو جواب دینا چاہیے۔ ان کے مطابق عوام کو اصل صورتحال کے بارے میں آگاہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

Published: undefined

ادھر کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی الزام لگایا کہ ملک میں رسوئی گیس کی قلت حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر عوام کب تک اس طرح کی صورتحال برداشت کریں گے۔ اسی دوران آل انڈیا مہلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے بھی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گھریلو گیس سلنڈر اور تجارتی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے اور حکومت کو اس معاملے پر جواب دینا چاہیے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined