قومی خبریں

یونیورسٹیوں کو طلبہ کو ڈرانے اور پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا، کھڑگے مودی حکومت پر حملہ آور

ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ یونیورسٹیوں کو طلبہ کو ڈرانے، احتجاج سے دور رکھنے اور پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ بھی دہرایا

<div class="paragraphs"><p>کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب</p></div>

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت ملک کی ممتاز یونیورسٹیوں کو طلبہ کو ڈرانے، احتجاج سے باز رکھنے اور سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم کے نظام میں پیدا ہونے والے بحران پر سنجیدہ بحث سے گریز کر رہی ہے اور تعلیمی اداروں کی خودمختاری کو متاثر کیا جا رہا ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے ایک بیان میں کہا کہ ملک بھر کے طلبہ زمینی سطح پر اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، لیکن مودی حکومت ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ لینے اور تعلیم کے شعبے میں ضروری اصلاحات پر بات کرنے کے بجائے مودی اور شاہ کی قیادت والی حکومت نے تعلیمی اداروں کو بدنام کرنے اور انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔

کھڑگے نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ملک کے نوجوان آج سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے اثرات اب واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ سمیت مختلف امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ احتجاج میں شرکت سے طلبہ کو روکنے کے لیے متعدد یونیورسٹیوں نے ہدایات جاری کی ہیں، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت اعتراض کیا ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) نے بھی اپنے طلبہ، اساتذہ اور دیگر اراکین کو جنتر منتر اور اس کے اطراف ہونے والے احتجاجی اجتماعات میں شرکت نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے متنبہ کیا ہے کہ مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔

جے این یو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یونیورسٹی برادری کے تمام اراکین اپنی ذاتی سلامتی کو ترجیح دیں اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق جنتر منتر یا اس کے اطراف منعقد ہونے والے عوامی اجتماعات میں شرکت سے گریز کریں۔

دوسری جانب، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی دہلی یونیورسٹی کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک یونیورسٹی کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ طلبہ کو ان کے جمہوری حقوق کے استعمال سے روکنے یا انہیں دھمکانے کی کوشش کرے۔

راہل گاندھی نے دہلی یونیورسٹی کی سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری حقوق کے استعمال پر طلبہ کو دھمکانا ناقابل قبول ہے اور وقت آنے پر ایسے فیصلے کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو طلبہ کی آواز دبانے کے بجائے ان کے تحفظات کو سننا چاہیے اور تعلیم کے نظام میں پیدا ہونے والے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔