قومی خبریں

کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، کہا- ’معاشی پالیسی کا مقصد چند سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانا ہے‘

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت پر بازار میں مسابقت ختم کر کے اجارہ داری بڑھانے کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق ٹیلی کام اور گھریلو ہوابازی میں کمپنیوں کی تعداد گھٹی ہے

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>

ملکارجن کھڑگے، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت معیشت کا کنٹرول اپنے پسندیدہ سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں سونپنا چاہتی ہے، تاکہ اس کے بدلے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو منافع میں حصہ ملتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مسابقت ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کی بالادستی والے بازار کو فروغ دیا ہے، جس سے معاشی آزادی کی بنیاد کمزور ہوئی ہے۔

کھڑگے نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں یہ الزامات عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی پالیسیوں کا مقصد چند پسندیدہ سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانا ہے اور اس عمل میں بی جے پی کی تجوری بھرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، مختلف شعبوں میں مسابقت کم ہونے سے بڑی کمپنیوں کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔

کانگریس صدر نے اپنی بات کے حق میں ٹیلی کام اور گھریلو ہوابازی کے شعبوں کی مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2014 سے پہلے ٹیلی کام شعبے میں 13 کمپنیاں سرگرم تھیں، جب کہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں نمایاں طور پر موجود ہیں۔

اسی طرح گھریلو ہوابازی کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ 2014 سے پہلے اس شعبے میں سات بڑی کمپنیاں تھیں، جب کہ اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ ان کے مطابق، یہ صورت حال مختلف شعبوں میں مسابقت کے سکڑنے کی عکاسی کرتی ہے۔

کھڑگے نے ڈیجیٹل ادائیگیوں، سیمنٹ اور کھانے کی اشیا کی گھر تک ترسیل کرنے والی ایپس کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ان تمام شعبوں میں مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بازار میں چند بڑی کمپنیوں کی بالادستی سے چھوٹے کاروباروں کے لیے مقابلہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

کانگریس صدر نے کہا کہ ان کی پارٹی معاشی آزادی کی معمار ہے، جب کہ بی جے پی اپنے مفادات کے لیے ’معاشی دہشت گردی‘ نافذ کر رہی ہے۔ یہ اصطلاح استعمال کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے چھوٹی اور درمیانی صنعتیں متاثر ہوئی ہیں۔

کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ مائیکرو، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) سمیت متعدد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بند ہونے کی صورت حال سے دوچار ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری پر بھی تشویش ظاہر کی اور موجودہ معاشی صورت حال کو نوجوانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔

کھڑگے کے یہ بیانات حکومت کی معاشی پالیسیوں اور بازار میں مسابقت کے معاملے پر کانگریس کی تنقید کا حصہ ہیں۔ تاہم، ٹیلی کام اور ہوابازی میں کمپنیوں کی تعداد، مختلف شعبوں میں مسابقت کی صورت حال اور روزگار پر پالیسیوں کے اثرات سے متعلق ان کے دعووں کو اس پوسٹ کی بنیاد پر آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق نہیں سمجھا جا سکتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔