
فاطمہ رحیم سنٹرل اسکول کے مانٹیسری بلاک کی بنیاد رکھتی ہوئیں پرینکا گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کیرالہ (نیا نام کیرلم) کے دورے پر ہیں اور آج مختلف تقاریب میں شرکت کرتی ہوئی دیکھی گئیں۔ انھوں نے کچھ اہم ایشوز پر نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب بھی دیا۔ انھوں نے جمعہ کے روز اپنے پارلیمانی حلقہ وائناڈ میں کالیکاوو سروس کوآپریٹیو بینک کی کوآپریٹیو لیباریٹری کا افتتاح کیا، اور تھرووَمباڈی کے کیتھاپوئل میں ایم ای ایس فاطمہ رحیم سنٹرل اسکول کی سلور جبلی تقریب کا افتتاح بھی کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے اس اسکول کے مانٹیسری بلاک کی بنیاد بھی رکھی۔ بعد ازاں پرینکا گاندھی نے نیلامبور کے کمبارا گاؤں کا دورہ بھی کیا۔
Published: undefined
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے پرینکا گاندھی کے ذریعہ ایم ای ایس فاطمہ رحیم سنٹرل اسکول کی سلور جبلی تقریب کا افتتاح کیے جانے اور مانٹیسری بلاک کی بنیاد رکھے جانے کی تصویریں شیئر کی ہیں۔ کچھ تصویروں میں پرینکا گاندھی اسکولی طالبات کے ساتھ دکھائی دے رہی ہیں۔ اسی طرح نیلامبور کے کمبارا گاؤں کی کچھ تصویریں بھی اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ڈالی گئی ہیں۔ ایک تصویر میں وہ کمہار کے سامنے بیٹھی دکھائی دے رہی ہیں جو چاک چلاتے ہوئے مٹی سے کچھ بنا رہا ہے۔ وہاں پرینکا گاندھی نے موجود لوگوں اور بچوں سے بات چیت کر ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش بھی کی۔
Published: undefined
پرینکا گاندھی کے ذریعہ کالیکاوو سروس کوآپریٹیو بینک کی کوآپریٹیو لیباریٹری کے افتتاح کو بھی کافی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس پیش قدمی کا مقصد علاقہ کے لوگوں کو سستی اور آسانی سے ملنے والی ڈائگناسٹک سروس دے کر ہیلتھ کیئر سپورٹ کو بڑھانا ہے۔ اس لیباریٹری کا افتتاح کرتے وقت مقامی لوگ انتہائی خوش نظر آئے۔ پرینکا گاندھی نے اس موقع پر ایک چھوٹی بچی کے ساتھ سیلفی بھی لی۔
Published: undefined
مختلف تقاریب میں شرکت کے دوران پرینکا گاندھی نامہ نگاروں کے درمیان سے گزرتے ہوئے ان کے سوالوں کا جواب بھی دیتی نظر آئیں۔ ایک نامہ نگار نے ان سے چپلی تھوڈ میں مجوزہ چورم بائپاس روڈ سے متعلق سوال کیا۔ اس بارے میں پرینکا نے کہا کہ ’’اس سڑک پر 2.5 کلومیٹر کے حصہ میں ٹنل (سرنگ) تعمیر کرنا ممکن ہے یا اس کی جگہ بائپاس بنایا جائے، اس کا جائزہ لینے کے لیے ایک اسٹڈی کی جائے گی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’میں اس سلسلہ میں پہلے ہی وزیر سے بات کر چکی ہوں اور انھیں خط بھی لکھا ہے۔ انھوں نے ایک چھوٹی کمیٹی اور ایک کنسلٹنسی قائم کی ہے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ کیا ممکن ہے، اور کیا ممکن نہیں ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’میری یہی گزارش ہے کہ مزید وقت ضائع نہ کیا جائے اور یہ کام جلد از جلد مکمل کیا جائے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined