
آئی اے این ایس
ترواننت پورم: کیرالہ کے ضلع وائناڈ میں شدید بارش کے باعث پیش آنے والے لینڈ سلائیڈنگ کے واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے منگل کو ایک ہنگامی جائزہ اجلاس منعقد کیا، جس میں ریاست کے وزیر زراعت ٹی صدیقی سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں اناکمپوئیل۔کلّاڈی سرنگ سڑک منصوبے کے وائناڈ حصے میں پیش آنے والے حادثے، امدادی سرگرمیوں اور آئندہ کے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
Published: undefined
وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ امدادی اور بچاؤ کارروائیاں جنگی بنیادوں پر جاری رکھی جائیں تاکہ ملبے تلے دبے ممکنہ افراد کو جلد از جلد نکالا جا سکے۔ انہوں نے وزیر مالیات و محصولات اے پی انیل کمار اور وزیر زراعت ٹی صدیقی کو فوری طور پر وائناڈ پہنچ کر بچاؤ کارروائیوں کی نگرانی کرنے کی بھی ہدایت دی۔
یہ حادثہ میناکشی پل کے قریب کلّاڈی علاقے میں پیش آیا، جہاں سرنگ کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تعمیراتی مقام پر کھودی گئی مٹی کا بڑا ڈھیر شدید بارش کے باعث اچانک منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں کام کی جگہ کے کئی حصے ملبے تلے دب گئے۔
Published: undefined
حکام کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مسلسل موسلا دھار بارش کے باعث زمین نرم ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے مٹی کا بڑا حصہ سرک کر نیچے آ گرا۔ اب تک تین افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
تاہم ریسکیو حکام کو خدشہ ہے کہ ملبے کے نیچے مزید مزدور اور کچھ سیاح بھی پھنسے ہو سکتے ہیں۔ یہ علاقہ سیاحوں میں خاصا مقبول سمجھا جاتا ہے اور حادثے کے وقت متعدد نجی گاڑیاں بھی جائے وقوع کے قریب کھڑی تھیں۔ تعمیراتی مزدوروں کو مقام تک پہنچانے والی ایک بس بھی وہیں موجود تھی، جس کے ملبے تلے دب جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
ریاستی فائر اینڈ ریسکیو سروس، پولیس اور دیگر ہنگامی اداروں نے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جبکہ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس کی ایک ٹیم بھی امدادی کاموں میں شامل ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق میپاڈی علاقے میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران غیر معمولی طور پر 226 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔ اگرچہ ابتدائی طور پر شدید بارش کو حادثے کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حکام اب بھی واقعے کی مکمل وجوہات اور نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں، اس لیے ملبے تلے پھنسے افراد کی حتمی تعداد، جانی و مالی نقصان اور حادثے کی مکمل نوعیت کے بارے میں سرکاری طور پر ابھی کوئی آخری تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined