قومی خبریں

کیرالہ میں انتخابی مہم کا آخری دن: پرینکا گاندھی کی حکومت پر تنقید، عوامی مسائل حل کرنے کا وعدہ

کیرالہ میں انتخابی مہم کے آخری دن پرینکا گاندھی نے خطاب کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر تنقید کی، عوامی مسائل اجاگر کیے اور متحدہ کوششوں کے ذریعے ترقی و فلاح کے وعدے کیے

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

کیرالہ میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر انتخابی مہم کے آخری دن سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں، جہاں کانگریس کی سینئر رہنما پرینکا گاندھی نے ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی حکومت اور مرکزی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے عوامی مسائل، خاص طور پر روزگار، کسانوں کی مشکلات، بنیادی سہولیات کی کمی اور انسانی و جنگلی حیات کے تصادم جیسے معاملات کو نمایاں طور پر اٹھایا۔

پرینکا گاندھی نے اپنے خطاب کا آغاز عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ شدید گرمی کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد میں موجودگی ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بطور عوامی نمائندہ انہوں نے مختلف طبقات سے ملاقات کر کے ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی، مگر ان مسائل کے حل میں ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے درمیان تعاون کی کمی ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔

Published: undefined

انہوں نے ایک مقامی سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں عوام نے مذہب، ذات اور سیاست سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کا ساتھ دیا، لیکن بعد میں اس معاملے کو سیاسی رنگ دے دیا گیا، جس سے مسائل کے حل میں تاخیر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو کر کام کریں تو عوامی مسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے انسانی و جنگلی حیات کے درمیان بڑھتے تصادم کو بھی ایک سنگین مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ اس کا فوری حل ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے طویل مدتی اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں عوام، حکومت، جنگلات کے محکمے اور سیاسی قیادت سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، تبھی اس چیلنج سے نمٹا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

پرینکا گاندھی نے ریاست میں بڑھتی بے روزگاری، مہنگائی اور کسانوں کی مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا اور کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ ان کے مطابق، ریاست میں وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان کے مؤثر استعمال کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ترقی کے مواقع ضائع ہو رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ دس برسوں میں ریاستی حکومت عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی اور بدعنوانی کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اب اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ آنے والے برسوں میں کس طرح کی حکومت چاہتے ہیں۔

Published: undefined

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے مختلف فلاحی وعدے بھی کیے، جن میں خواتین کے لیے سہولیات، طلبہ کے لیے مالی امداد، بزرگوں کے لیے بہتر پنشن اور صحت کے شعبے میں بڑی سطح پر مالی تحفظ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی جماعت کو اقتدار ملا تو عوامی بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے اور ریاست کی معیشت کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ووٹنگ کے دن اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو ان کے مسائل کو سمجھتے ہوں اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ ہوں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مضبوط قیادت اور واضح منصوبہ بندی کے ذریعے ریاست کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined