قومی خبریں

کیرالہ اسمبلی انتخابات: کانگریس 92 سیٹوں پر امیدوار، آخری فہرست جاری

کیرالہ اسمبلی انتخابات کے لیے کانگریس نے 37 امیدواروں کی آخری فہرست جاری کر دی ہے۔ پارٹی 92 سیٹوں پر الیکشن لڑے گی جبکہ چند باغی لیڈروں کی حمایت بھی کرے گی، اندرونی اختلافات بھی سامنے آئے

<div class="paragraphs"><p>کانگریس پارٹی کا پرچم / آئی اے این ایس</p></div>

کانگریس پارٹی کا پرچم / آئی اے این ایس

 

نئی دہلی/ترواننت پورم: کیرالہ میں 9 اپریل کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے کانگریس نے اپنے امیدواروں کی آخری فہرست جاری کر دی ہے۔ اس فہرست میں 37 حلقوں کے نام شامل ہیں اور اس کے ساتھ ہی کئی دنوں سے جاری اندرونی مشاورت، اختلافات اور سیاسی سرگرمیوں کا ایک مرحلہ ختم ہو گیا ہے۔

140 رکنی کیرالہ اسمبلی کے لیے کانگریس نے 92 نشستوں پر انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ تین حلقوں میں ایسے باغی لیڈروں کی حمایت کا فیصلہ کیا گیا ہے جو سی پی آئی-ایم سے الگ ہو کر سامنے آئے ہیں۔ اس فیصلے کو پارٹی کی انتخابی حکمت عملی کا اہم حصہ مانا جا رہا ہے۔

Published: undefined

امیدواروں کی فہرست جاری کرنے میں ہوئی تاخیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پارٹی قیادت کو مختلف گروہوں کے درمیان توازن قائم کرنے، سینئر لیڈروں کو جگہ دینے اور نئے چہروں کو شامل کرنے میں خاصی دشواری پیش آئی۔ اس دوران کئی سطحوں پر بات چیت اور اختلافات بھی دیکھنے کو ملے۔

سب سے نمایاں صورتحال اس وقت سامنے آئی جب سینئر لیڈر اور کننور کے رکن پارلیمنٹ کے۔ سدھاکرن نے اپنی ناراضگی ظاہر کی اور پارٹی چھوڑنے تک کی بات کہی۔ تاہم سینئر رہنما اے۔ کے۔ انٹنی کی مداخلت کے بعد معاملہ سنبھل گیا اور اختلافات کو وقتی طور پر ختم کر دیا گیا۔

Published: undefined

بعد میں سدھاکرن نے مفاہمتی انداز اپناتے ہوئے پارٹی کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ پارٹی کے لیے انتخابی مہم میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ اس بیان کو پارٹی کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

جاری کی گئی فہرست میں تجربہ کار لیڈروں اور نئے امیدواروں کا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ این۔ شکٹن، ٹی۔ سرت چندر پرساد، ورکلا کہار اور وی۔ شیوکمار جیسے سینئر چہروں کو میدان میں اتارا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی تجربے پر بھی بھروسہ کر رہی ہے۔

Published: undefined

اس کے ساتھ ہی ایبی کوریئاکوس، رائے کے۔ پاؤلوز اور پزھاکلم مدھو جیسے کارکنوں کو پہلی بار موقع دیا گیا ہے، جو پارٹی کی اندرونی صفوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

تاہم دو مرتبہ کے موجودہ رکن اسمبلی ایلڈوس کنناپلی کو فہرست سے باہر رکھنے پر ناراضگی بھی سامنے آئی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے پر حیرت ظاہر کی اور کہا کہ وہ اپنے حامیوں سے مشورہ کرنے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

Published: undefined

اسی طرح سندیپ واریئر، جو حال ہی میں پارٹی میں شامل ہوئے ہیں، کو ایک اہم حلقے سے میدان میں اتارا گیا ہے، جہاں سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اب جبکہ امیدواروں کی فہرست جاری ہو چکی ہے، پارٹی کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ٹکٹ سے محروم رہنے والے لیڈر پارٹی کے فیصلے کو کس حد تک قبول کرتے ہیں۔ یہی پہلو آنے والے دنوں میں کانگریس کی انتخابی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined