
دیویندر یادو / آئی اے این ایس
نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے کہا کہ جھگی بستیوں میں رہنے والے لوگ عام آدمی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتوں کی پالیسیوں سے شدید متاثر ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں پارٹیاں غریبوں کی مشکلات کو حل کرنے کے بجائے صرف انتخابات کے دوران جھوٹے وعدے اور دکھاوے کی سیاست کرتی ہیں۔
Published: undefined
یادو نے کہا کہ کانگریس کے 15 سالہ دورِ حکومت میں جھگی بستیوں کے لوگوں کے لیے جہاں جھگی، وہیں مکان کی پالیسی کے تحت مکانات بنائے گئے اور ان کے رہائشی حالات کو بہتر کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ لیکن عام آدمی پارٹی کے 11 سالہ دورِ حکومت میں ان بستیوں کے لیے کوئی اہم کام نہیں ہوا۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ کیجریوال حکومت نے بجلی اور پانی کی مفت فراہمی کے نام پر جھوٹے وعدے کیے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جھگی میں رہنے والے لوگ ہزاروں روپے کے بل ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ یادو نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک چھوٹے سے کمرے کی بجلی کا بل 8000 روپے تک پہنچ جاتا ہے، جو کہ ناقابل قبول ہے۔
Published: undefined
دیویندر یادو نے مزید کہا کہ جھگی بستیوں کی حالت بدتر ہے۔ گندگی، کوڑے کے ڈھیر، ٹوٹی ہوئی گلیاں اور نکاسی آب کے ناقص انتظامات ان لوگوں کی زندگی کو مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے جھگیوں میں قیام کا نیا اقدام محض ایک سیاسی ڈرامہ ہے جو انتخابات سے متاثر ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جھگی بستیوں میں شدید بارش کے دوران پانی، کوڑا کرکٹ اور گندگی ایک ساتھ بہتی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ کیجریوال حکومت نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔
Published: undefined
دیویندر یادو نے کہا کہ کانگریس کے دورِ حکومت میں راجیو رتن آواس یوجنا کے تحت بنائے گئے 46000 مکانات کیجریوال حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے خالی پڑے ہیں اور خراب ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہلی نیائے یاترا کے دوران انہوں نے دہلی کی جھگی بستیوں اور دیگر پسماندہ علاقوں میں عوام سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ ان کے مطابق، دہلی کے عوام بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کی حکومتوں سے تنگ آ چکے ہیں اور تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined