
بی آر ایس لیڈر کے کویتا فائل فوٹو / یو این آئی
تلنگانہ جاگرتی سنگٹھن کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کی بیٹی کے کویتا نے ہفتے کے روز’ تلنگانہ راشٹر سینا‘ (ٹی آر ایس) نام سے نئی پارٹی کا اعلان کردیا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ کے سی آر کی پارٹی کا مختصراً نام بھی ٹی آر ایس یعنی تلنگانہ رشٹر سمیتی تھا۔ چند سال قبل اسے بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) کردیا گیا۔ کویتا نے حیدرآباد کے مضافات میں منعقدہ ایک پروگرام میں اپنی پارٹی کے نام کا اعلان کیا۔ ستمبر 2025 میں کویتا کو بی آر ایس سے اس وقت معطل کر دیا گیا جب اپنے چچا زاد اور پارٹی لیڈر ٹی ہریش راؤ اور رشتہ دار جے سنتوش کمار پر بی آر ایس حکومت کے دوران بنائی گئی کالیشورم لفٹ آبپاشی اسکیم کے حوالے سے اپنے والد بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کی شبیہ کو ’خراب‘ کر الزام لگایا تھا۔
Published: undefined
اپنی معطلی کے بعد سے وہ تلنگانہ جاگرتی نامی اپنی قیادت والی ثقافتی تنظیم کے بینر تلے عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔ ان کے والد کی قیادت والی بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) کا اصل نام تلنگانہ راشٹرسمیتی (ٹی آر ایس) تھا۔ حالانکہ 2022 میں اس کا نام بدل کر بی آر ایس کردیا گیا تھا۔ کے کویتا مختلف بے ضابطگیوں کے لیے بی آر ایس حکومت کی مسلسل ناقد رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت پرآر ٹی سی ایجی ٹیشن، پانی کی قلت اور بجلی کی کٹوتی جیسے اہم مسائل کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا تھا۔
Published: undefined
کے کویتا نے بی آر ایس پر خواتین ریزرویشن بل اور حد بندی سمیت مرکزی تشویش کے مسائل کو نہ اٹھانے پر بھی تنقید کی۔ یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ ان کی پارٹی نوجوانوں کو مواقع فراہم کرے گی اور سیاست میں تبدیلی لائے گی، کویتا نے کہا کہ تلنگانہ کو عوام پر مبنی حکومت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مٹی کی بیٹی ہونے کے ناطے میں ایک نئی طرز کی سیاست کے ساتھ آگے آرہی ہوں۔ غورطلب ہے کہ کے کویتا گزشتہ کئی برسوں سے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) کے نشانہ پر تھیں۔ انہیں دہلی کی کیجریوال حکومت میں بنائی گئی شراپ پالیسی میں مبینہ گھپلے کے سلسلے میں ملزم بنایا گیا ہے۔ اس معاملے میں مرکزی جانچ ایجنسی متعدد بار کے کویتا سے پوچھ گچھ کر چکی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined