کے سی وینوگوپال
تصویر: اسکرین شاٹ
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے سرکاری ملازمین کے ڈاٹا سے جڑے کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کی حمایت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم عدالت کے فیصلہ کا استقبال کرتے ہیں۔‘‘ میڈیا اہلکاروں سے بات چیت کے دوران انھوں نے کہا کہ ’’ریاست بھر میں سرکاری ملازمین سے جڑے ڈاٹا کی چوری کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، جو کہ فکر انگیز ہے۔ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس معاملہ میں کیرالہ ہائی کورٹ کی طرف سے جو فیصلہ آیا ہے، اس کا ہم استقبال کرتے ہیں۔‘‘
Published: undefined
کے سی وینوگوپال کا کہنا ہے کہ کسی بھی ریاست میں سرکاری ملازمین سے متعلق ڈاٹا بہت ہی بیش قیمت ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر اس ڈاٹا کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے، یا اس کی چوری ہو رہی ہے تو یقیناً ہم اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ بہت ہی سنگین معاملہ ہے۔ ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا۔ آپ سرکاری ملازمین کے ڈاٹا کو پرائیویٹ ایجنسیوں کے حوالہ کر رہے ہیں۔ آخر آپ کی منشا کیا ہے؟ آپ سوچیے، اس ڈاٹا کا استعمال کہیں پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کا غلط استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔‘‘
Published: undefined
کانگریس لیڈر نے اس معاملہ پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پورے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیرالہ ہائی کورٹ کو اس پورے معاملہ میں مداخلت کرنی پڑ گئی۔ بہت ہی سخت لہجہ میں عدالت نے ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ ہمیں اس طرح کے افسوسناک عمل سے بچنا ہوگا۔ یہ پوری طرح سے نامناسب ہے۔ ہم اسے کسی بھی حال میں قبول نہیں کر سکتے ہیں۔ ایسا کر کے ایک طرح سے آپ سرکاری ملازمین کی رازداری پر حملہ کر رہے ہیں۔ یہاں پر ہمیں دھیان رکھنا ہوگا کہ وہ ایسے ملازمین ہیں، جو حکومت کے لیے کام کرتے ہیں۔
Published: undefined
کے سی وینوگوپال نے میڈیا اہلکاروں کے سامنے موجودہ سیاسی منظرنامہ پر بھی اپنی بات رکھی۔ انھوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ پہلے تو ان لوگوں نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے ای ڈی اور سی بی آئی جیسے آئینی اداروں کا استعمال کیا۔ جب اس سے بھی ان کا من نہیں بھرا، تو انھوں نے معصوم بچوں کے ذہن میں زہر بھرنا شروع کر دیا۔ لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا، جب ان لوگوں کو ملک سے باہر جانا ہوگا، اس وقت ہم آئیں گے اور تصویر کو بدلنے کا کام کریں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز