
کرناٹک کےوزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، تصویر/آئی اے این ایس
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ کانگریس حکومت نے ریاست میں سماجی و اقتصادی سروے کرایا ہے اور حکومت اسے نافذ کر کے سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیر اعلیٰ نے جمعہ (7 جولائی) کو بنگلورو کے گیان جیوتی آڈیٹوریم میں ’راشٹریہ او بی سی مہاسنگھ‘ کے 11ویں قومی کنونشن کا افتتاح کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم سب کے لیے یکساں زندگی اور حصہ داری کے اصول پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ مساوات سے متعلق بحث برطانوی راج کے وقت بھی ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے 1931 کے آس پاس ذات پات پر مبنی مردم شماری کرائی گئی تھی۔ ہمارے لیڈر ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی بھی ذات پات پر مبنی مردم شماری کرانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ’’سماج کے تمام طبقات کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ آج آئین کے ذریعے ہر برادری کو حقوق دیے گئے ہیں۔ کرناٹک میں پسماندہ طبقات کا محکمہ الگ سے کام کرتا ہے اور اس کے لیے فنڈز بھی فراہم کیے جائیں گے۔ حکومت پسماندہ طبقات کی آواز سن رہی ہے۔ ریاست کی کابینہ میں 2 تہائی وزراء پسماندہ طبقات، درج فہرست ذاتوں و قبائل اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’میسور کے حکمران نلواڑی کرشن راج ووڈیار کے دور میں او بی سی کو ریزرویشن دیا گیا تھا، یہ کرناٹک کی تاریخ ہے۔ ملک میں پسماندہ طبقات تقریباً 52 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آپ نے اپنے فن، علم اور محنت سے ملک کی تعمیر کی ہے۔ آپ ہی ملک کے اصل معمار ہیں۔ ہم آپ کے مطالبات سے پوری طرح واقف ہیں۔‘‘
ڈی کے شیو کمار کے مطابق لوکل باڈیز میں بھی ریزرویشن دیے جا رہے ہیں۔ 73 ویں اور 74 ویں آئینی ترمیم کے وقت انہوں نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی سے پوچھا تھا کہ ان ترمیمات کی ضرورت کیوں ہے۔ اس پر راجیو گاندھی نے کہا تھا کہ پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک قیادت تیار ہونی چاہیے۔ ڈی کے شیوکمار نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’’راجیو گاندھی کا ماننا تھا کہ سچا لیڈر وہی ہے جو دوسرے لیڈروں کو تیار کرے۔ ان کی خواہش تھی کہ سماج کے ہر طبقے کے لوگ قیادت کے کردار میں آئیں۔ اس ملک میں ذات پات پر مبنی مردم شماری ضروری ہے اور مرکزی حکومت نے بھی گھر گھر جا کر مردم شماری کا عمل شروع کیا ہے۔ ذات پات کی مردم شماری کے ذریعے معاشرے میں موجود عدم مساوات کو کم کیا جا سکتا ہے۔‘‘
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ’’بابن راؤ کی قیادت میں ’راشٹریہ او بی سی مہاسنگھ‘ بغیر کسی سیاسی مقصد کے پسماندہ طبقات کے حقوق کے لیے کام کر رہا ہے۔ ریاستی حکومت لوگوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ کانگریس پارٹی کا نظریہ، بسونا کے اصولوں اور قومی مفاد کے لیے حکومت پوری طرح وقف ہے۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’پورے ملک میں یہ پیغام پہنچنا چاہیے کہ کرناٹک میں ایک ایسی حکومت ہے جو پسماندہ طبقات کی آواز سنتی ہے۔ اگر آپ قومی سطح پر اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں، تو آپ کو ہماری پارٹی کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ ملک کو آزادی دلانے والی کانگریس ہی تمام طبقات کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے۔ جب سونیا گاندھی کے پاس وزیر اعظم بننے کا موقع آیا تو انہوں نے ملکی مفاد میں ماہر اقتصادیات منموہن سنگھ کو وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کیا۔‘‘
وزیر اعلی ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ منموہن سنگھ کے دور حکومت میں تعلیمی اصلاحات، فوڈ سیکورٹی ایکٹ اور روزگار کی گارنٹی جیسے منصوبے نافذ کیے گئے۔ تمام طبقات کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری تبدیلیاں کانگریس حکومتوں نے ہی کی ہیں۔ انہوں نے او بی سی مہاسنگھ کے مطالبات کی حمایت کرنے اور کانگریس کا ساتھ دینے کی اپیل بھی کی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔