
لکھنؤ: اتر پردیش پولیس نے دعوی کیا ہے کہ ہندو رہنما کملیش تیواری کے قاتلوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔ اترپردیش کے پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) او پی سنگھ نے بتایا کہ پولس نے ناکا ہنڈولا علاقے میں واقع ہوٹل ’خالصہ اِن‘ سے خون آلودہ زعفرانی کرتہ اور ایک تولیہ برآمد کیا ہے۔ پولس کے مطابق کملیش تیواری کے قاتل اسی ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ اس کے علاوہ ’شیونگ کٹ‘ اور موبائل فون کے ساتھ بیگ بیگ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
Published: 20 Oct 2019, 9:00 PM IST
ڈی جی پی نے نامہ نگاروں کو بتایا، ’’ہم کرتے اور تولیے کو فارینسک ماہرین کے پاس بھیج رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کپڑوں پر لگا خون کملیش تیواری کا ہے یا نہیں! ایس آئی ٹی ہوٹل کے عملے سے بھی پوچھ گچھ کررہی ہے۔‘‘
Published: 20 Oct 2019, 9:00 PM IST
تفتیشی عہدیداروں کے مطابق، قاتل جمعرات کے روز کانپور سے سڑک کے ذریعے لکھنؤ آئے تھے اور اسی دن لکھنؤ سے روانہ ہوئے تھے۔ اسی دن اس کی لوکیشن ہردوئی، بریلی اور پھر غازی آباد کی پائی گئی۔
Published: 20 Oct 2019, 9:00 PM IST
ڈی جی پی نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ قاتل اپنی شناخت چھپانا نہیں چاہتے تھے اور انہوں نے دانشتہ طور پر قتل کے ثبوت چھوڑ دئے ہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’انہوں نے سورت سے مٹھائیاں خریدیں اور بل وہیں چھوڑ دیا، جس کے ذریعے مٹھائی کی دکان ملی اور ملزمان کی شناخت سی سی ٹی وی میں ہوئی۔‘‘ ڈی جی پی نے کہا کہ پولیس جلد سے جلد قاتل کو پکڑنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔
Published: 20 Oct 2019, 9:00 PM IST
ادھر، متعدد مطالبات کے ساتھ متوفی کے لواحقین نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کی۔ لواحقین نے قاتلوں کو کڑی سزا دینے، کنبہ کے ممبروں کو تحفظ فراہم کرنے اور اسلحہ کا لائسنس دینے، کنبہ کو مناسب معاوضہ دینے، متوفی کے بڑے بیٹے ستیم تیواری کو سرکاری ملازمت اور کنبہ کے لئے ایک مکان کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
Published: 20 Oct 2019, 9:00 PM IST
اس کے علاوہ انہوں نے لکھنؤ میں کملیش تیواری کا مجسمہ لگانے اور خورشید باغ کا نام کملیش باغ رکھنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اس سلسلے میں، شیوسینا کے ایک مقامی رہنما ارون پاٹھک نے تیواری کے قاتلوں کو ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے متوفی کے لواحقین سے ملاقات کی اور انہیں انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی۔
Published: 20 Oct 2019, 9:00 PM IST
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 20 Oct 2019, 9:00 PM IST