لوک سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے ترنمول کانگریس لیڈر کلیان بنرجی
تصویر @GoldDusters
متنازعہ بیانات دینے کے لیے مشہور ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے ایک بار پھر اپنے بیان سے تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ انھوں نے 25 مارچ کو مرکزی وزیر برائے زراعت و دیہی ترقی شیوراج سنگھ چوہان کو ’امیروں کا دلال‘ کہہ ڈالا۔ انھوں نے شیوراج پر امیروں کے دلال کی شکل میں کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں ہدف تنقید بنایا، اور ساتھ ہی مرکز کی بی جے پی حکومت پر بھی حملہ بولا۔ انھوں نے مغربی بنگال کو زیر التوا مرکزی فنڈس سے متعلق بھی مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔
Published: undefined
بی جے پی نے شیوراج سنگھ چوہان سے متعلق کلیان بنرجی کے بیان پر بلاتاخیر جوابی حملہ شروع کر دیا ہے۔ وزیر مملکت برائے زراعت بھگیرتھ چودھری نے شیوراج کے خلاف قابل اعتراض زبان کے استعمال کے لیے کلیان بنرجی سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ درست نہیں ہے۔ ایک سینئر رکن پارلیمنٹ کو اس طرح کا زبان استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ وزیر اعظم مودی ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘ کے اصول پر کام کر رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کے ساتھ تفریق نہیں کی گئی ہے، سبھی کو ان کا حصہ مل رہا ہے۔‘‘ بھگیرتھ چودھری نے مزید کہا کہ ’’ایک وزیر کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرنے کے لیے بنرجی کو معافی مانگنی چاہیے۔‘‘
Published: undefined
اس معاملے میں پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کے دوران کلیان بنرجی نے کہا کہ منریگا اور پی ایم رہائش منصوبہ جیسے منصوبوں کے لیے مغربی بنگال کو مرکزی حکومت نے گزشتہ 3 سالوں سے فنڈ جاری نہیں کیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی ریاست میں حکومت بنانے میں ناکام رہی، اور اسی وجہ سے بنگال کے ساتھ تفریق کر رہی ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ شیوراج سنگھ چوہان امیروں کے دلال ہیں، وہ غریبوں کے لیے کام نہیں کرتے، اسی لیے انھیں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ عہدہ سے ہٹا دیا گیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز