قومی خبریں

’بابری مسجد انہدام انکوائری کمیشن‘ کے چیئرمین جسٹس لبراہن کا 87 سال کی عمر میں انتقال

جسٹس لبراہن نے اپنے قانونی کیریئر کا آغاز 1964 میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ سے کیا تھا۔ اس کے بعد وہ اگست 1970 میں پنجاب و ہریانہ بار کونسل کے لیے منتخب کیے گئے۔

<div class="paragraphs"><p>جسٹس لبراہن، تصویر/سوشل میڈیا</p></div>

جسٹس لبراہن، تصویر/سوشل میڈیا

 

جسٹس منموہن سنگھ لبراہن کا 87 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔ جسٹس لبراہن وہی جج تھے، جنہوں نے ایودھیا میں بابری مسجد انہدام معاملے کی جانچ کے لیے بنائے گئے کمیشن کی قیادت کی تھی۔ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر روہت سود نے بتایا کہ جسٹس لبرہن کا اتوار کے روز انتقال ہوا۔ 11 نومبر 1938 کو پیدا ہونے والے لبراہن نے اپنے کیریئر کا آغاز انبالہ میں وکالت سے کیا تھا۔ بعد میں وہ چنڈی گڑھ میں واقع پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں پریکٹس کرنے لگے۔ اس وقت وہ صرف ’منموہن سنگھ ایڈووکیٹ‘ کے نام سے جانے جاتے تھے، چونکہ چنڈی گڑھ میں منموہن سنگھ نام کے کئی وکیل تھے، اس لیے اکثر الجھن کی صورت حال پیدا ہو جاتی تھی۔ اسی وجہ سے ایک جج نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی سب کاسٹ کا نام اپنے سرنیم کے طور پر شامل کر لیں۔ اس کے بعد انہوں نے ’لبراہن‘ کو اپنا سرنیم اختیار کر لیا۔

جسٹس لبراہن نے اپنے قانونی کیریئر کا آغاز 1964 میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ سے کیا تھا۔ اس کے بعد وہ اگست 1970 میں پنجاب و ہریانہ بار کونسل کے لیے منتخب کیے گئے، اور 11 فروری 1987 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ جنوری 1976 سے جون 1983 تک انہوں نے بار کونسل کے سکریٹری کے طور پر بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ 11 فروری 1987 کو انہیں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کا جج بنایا گیا۔ اس کے بعد ان کے کیرئیر میں ایک اہم موڑ آیا، جب 7 جولائی 1997 کو انہیں مدراس ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔ کچھ دنوں کے بعد 28 فروری 1998 کو وہ آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے۔

جسٹس لبراہن کا نام ملک میں سب سے زیادہ بابری مسجد انہدام انکوائری کمیشن کی وجہ سے لیا جاتا ہے۔ 16 دسمبر 1992 کو انہیں انکوائری کمیشن کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ اس کمیشن کا کام ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے پس پردہ حالات کی تفتیش کرنا تھا۔ بابری مسجد انہدام معاملے کا شمار ملک کے سب سے بڑے اور طویل عرصے تک چلنے والے تفتیشی مقدمات میں ہوتا ہے۔ ان کے انتقال کی خبر سے قانونی دنیا میں غم کا ماحول ہے۔ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ان کے تعاون کو یاد کرتے ہوئے شدید رنج کا اظہار کیا ہے۔ ان کی قانونی زندگی کئی دہائی تک پھیلی ہوئی ہے، جس میں انہوں نے وکالت سے لے کر کئی بڑے عہدوں پر فائز رہنے کا سفر طے کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔