قومی خبریں

جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے جے پی ایس سی تقرریاں منسوخ کرنے کے حکم پر لگائی روک، حکومت اور کمیشن سے جواب طلب

جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے 11ویں سے 13ویں جے پی ایس سی اور فوڈ سیفٹی آفیسر کی تقرریاں منسوخ کرنے کے ریاستی حکومت کے حکم پر اگلے حکم تک روک لگا دی۔ عدالت نے حکومت اور جے پی ایس سی سے جواب طلب کیا

<div class="paragraphs"><p>جھارکھنڈ ہائی کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>

جھارکھنڈ ہائی کورٹ / آئی اے این ایس

 

رانچی: جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کی جانب سے 11ویں سے 13ویں جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) مشترکہ سول سروس امتحان اور فوڈ سیفٹی آفیسر امتحان کے ذریعے کی گئی تقرریاں منسوخ کرنے کے فیصلے پر اگلے حکم تک روک لگا دی ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں ریاستی حکومت اور جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن سے جواب بھی طلب کیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 15 ستمبر کو ہوگی۔

جسٹس دیپک روشن کی عدالت نے جمعرات کو کامیاب اور منتخب امیدواروں کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے حکومت کے ان احکامات پر عبوری روک لگائی جن کے ذریعے مذکورہ امتحانات اور ان کے نتیجے میں ہوئی تقرریوں کو منسوخ کیا گیا تھا۔

درخواست گزاروں نے حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر یک طرفہ طور پر امتحانات اور تقرریاں منسوخ کر دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھرتی کے عمل میں کسی مرحلے پر بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری طے کر کے قصوروار افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے، لیکن مقررہ طریقہ کار کے تحت امتحان پاس کر کے میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے امیدواروں کو بغیر انفرادی جانچ اور سماعت کے ملازمت سے محروم کرنا قدرتی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔

11ویں سے 13ویں جے پی ایس سی مشترکہ سول سروس امتحان سے متعلق دو الگ الگ درخواستوں میں دیپ مالا اور دیگر اور سونم کماری نے حکومت کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ اس کے علاوہ سوربھ سنگھ اور دیگر نے فوڈ سیفٹی آفیسر کی تقرریاں منسوخ کیے جانے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

درخواست گزاروں کے وکیل امرتانش وتس کے مطابق، عدالت کے حکم سے تقریباً 450 امیدواروں کو راحت ملی ہے، جبکہ فوڈ سیفٹی آفیسر کے طور پر منتخب 54 امیدواروں کو بھی اس فیصلے سے فائدہ پہنچا ہے۔ ان میں کئی امیدوار ایسے ہیں جو تقرری کے بعد سرکاری ملازمت جوائن کر چکے تھے اور بعض نے اپنی تربیت بھی مکمل کر لی تھی۔

سونم کماری نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ انہوں نے جھارکھنڈ میں تقرری کے لیے دوسری جگہ کی ملازمت چھوڑ دی تھی۔ انہیں 24 نومبر 2025 کو تقرری نامہ ملا اور انہوں نے تربیت بھی مکمل کرلی، لیکن 18 اگست کو ریاستی حکومت کی جانب سے جاری حکم کے بعد ان کی تقرری منسوخ کر دی گئی۔

واضح رہے کہ جھارکھنڈ میں بھرتی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ تقریباً 25 دن تک احتجاج کرتے رہے تھے۔ اس دوران ریاستی حکومت نے سی آئی ڈی کی تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر 18 اگست کو 2014 کے بعد منعقد 22 امتحانات منسوخ کرنے اور دیگر کئی امتحانات کی جانچ کا فیصلہ کیا تھا۔

حکومت کے مطابق، جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے منعقد اور ٹی ڈی پی ایل ایجنسی کے ذریعے کرائے گئے امتحانات میں بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ حکومت نے ٹی ڈی پی ایل سے متعلق امتحانات منسوخ کرنے کے ساتھ 2014 کے بعد منعقد مختلف تقرری امتحانات میں ممکنہ بے ضابطگیوں کی بھی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔