قومی خبریں

ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی بڑی وجہ ایران جنگ ہے: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کا ذمہ دار ایران جنگ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی، امریکہ فرسٹ پالیسی اور اسرائیل سے تعلقات پر ووٹرز کی ناراضگی بھی اہم رہی، یہی سبب ہے

<div class="paragraphs"><p>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس / آئی اے این ایس</p></div>

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس / آئی اے این ایس

 

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں ریپبلکن پارٹی کی مڈٹرم انتخابات میں شکست کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اس ہار کی بنیادی وجہ بنی۔ ان کے مطابق انتخابی اعداد و شمار سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ ریپبلکن ووٹر بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے آئیں گے، مگر پارٹی کے بہت سے سابق حامیوں نے ڈیموکریٹس کا انتخاب کیا۔

وینس نے لکھا کہ انتخابی مہم کے دوران ان کی ٹیم کے ڈیٹا تجزیہ کار ووٹرز کی ساخت اور ٹرن آؤٹ کا 2024 کے صدارتی انتخاب سے موازنہ کر رہے تھے۔ کچھ ریاستوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ معمول کے مطابق اور بعض میں بہت اچھا تھا، جبکہ کسی ریاست میں صورت حال تباہ کن نہیں تھی۔ اس بنا پر ٹیم میں امید پیدا ہوئی کہ ریپبلکن توقعات سے بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

تاہم، وینس کے مطابق ان کے ایک قابلِ اعتماد ڈیٹا ماہر نے خبردار کیا تھا کہ ٹرن آؤٹ اچھا ہونے کے باوجود ٹرمپ اور وینس کو 2024 میں ووٹ دینے والے بعض افراد اس بار پارٹی سے ناراض ہیں اور ڈیموکریٹس کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وینس نے کہا کہ اب انتخابی نتائج اسی خدشے کی تصدیق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے فلوریڈا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ووٹرز میں ریپبلکنز کا تناسب ڈیموکریٹس سے نو پوائنٹ زیادہ تھا، جو 2024 کے مقابلے میں صرف چند پوائنٹ کم تھا۔ ان کے بقول ٹرن آؤٹ کچھ علاقوں میں بہتر بنایا جا سکتا تھا، مگر اصل مسئلہ ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد نہیں بلکہ سابق ریپبلکن ووٹرز کا ڈیموکریٹس کی طرف جانا تھا۔

وینس نے تسلیم کیا کہ پارٹی کی معاشی پیغام رسانی انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں مؤثر نہیں رہی ہوگی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ شکست کی اصل وجہ تقریباً سب کو معلوم ہے۔ ان کے مطابق ایک رائے شماری میں سابق ٹرمپ ووٹرز سے پوچھا گیا کہ وہ کن حالات میں دوبارہ ریپبلکن پارٹی کا ساتھ دیں گے۔ نمایاں جوابات میں جنگ ختم کرنا، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات پر توجہ دینا، امریکہ فرسٹ پالیسی اپنانا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی شامل تھے۔

انہوں نے لکھا کہ یہ چاروں نکات بتاتے ہیں کہ بہت سے ووٹروں نے ڈیموکریٹس کو کیوں ووٹ دیا۔ وینس نے ریچل کیمپوس ڈفی کا بھی دفاع کیا، جنہیں تنازع کے سفارتی حل کی بات کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کے مطابق ان کا سیاسی مشورہ درست تھا۔

وینس نے خبردار کیا کہ آنے والے مہینوں میں شکست کی وجوہات پر پارٹی کے اندر اختلافات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امیگریشن کے نفاذ کے طریقے بدلنے پر بات ہو سکتی ہے، مثلاً غیر قانونی مزدور رکھنے والے کاروباروں پر توجہ دینا، لیکن ان کے بقول معافی یا عام معافی کی تجویز دینے والے سیاست دان ووٹروں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر کہا کہ صدر نے بھی گزشتہ رات یہی بات کہی تھی کہ پارٹی جنگ کی وجہ سے ہاری۔ وینس کے مطابق اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ جنگ کی قیمت سینیٹ میں آئندہ چھ برس کے لیے اکثریت کھونے کے قابل تھی تو اسے کھل کر یہ مؤقف پیش کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ سیاسی بحث کا آغاز شکست کی اس وجہ کو تسلیم کرنے سے ہونا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔