قومی خبریں

جنتر منتر مظاہرہ: سنگین مجرمانہ ریکارڈ والوں کو چھوڑ کر دیگر طلبا کے خلاف کارروائی پر سپریم کورٹ کی روک

سپریم کورٹ نے جنتر منتر مظاہرے کے معاملے میں سنگین جرائم کے مقدمات والے افراد کو چھوڑ کر دیگر مظاہرین کے خلاف تعزیری کارروائی پر روک لگا دی اور آزادانہ تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے کا بھی فیصلہ کیا

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

نئی دہلی: جنتر منتر پر 20 جولائی کو احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف پولیس کارروائی کے معاملے میں سپریم کورٹ نے منگل کو اہم حکم جاری کیا۔ عدالت نے کہا کہ قتل، عصمت دری اور پوکسو جیسے سنگین جرائم کے مقدمات والے افراد کو چھوڑ کر دیگر مظاہرین کے خلاف احتجاج سے متعلق کوئی تعزیری کارروائی نہ کی جائے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بھی عدالت کی اس ہدایت سے اتفاق کیا۔

چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر پر موجود طلبا پرامن طریقے سے اپنے مسائل اٹھانے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پرامن مظاہرین کے خلاف نہیں ہے، البتہ ایسے افراد جن کا مجرمانہ پس منظر سنگین اور عادتاً جرائم سے متعلق ہے، ان کی جانچ کی جا سکتی ہے۔

سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے اب تک 2873 ایسے افراد کی شناخت کی ہے جن کے خلاف مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جھڑپ کے دوران 200 سے زیادہ پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے۔

اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ مظاہرین میں ایسے بے قصور طلبا بھی شامل تھے جنہوں نے اپنا مستقبل بنانے کے لیے سخت محنت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والدین نے بھی اپنی محنت اور خون پسینے کی کمائی ان کی تعلیم پر خرچ کی ہے۔

سپریم کورٹ نے پورے معاملے کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے ایک ہائی پاور کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت کے مطابق کمیٹی سابق ججوں اور ریٹائرڈ پولیس افسران کی نگرانی میں کام کرے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمیٹی صرف ایک خفیہ رپورٹ پیش کرکے معاملہ ختم نہیں کرے گی بلکہ جیسے جیسے نئے معاملات سامنے آئیں گے، ان کی بھی جانچ کرے گی اور وقتاً فوقتاً عدالت کو رپورٹ پیش کرے گی۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ کمیٹی میں سی بی آئی کے ایک سابق ڈائریکٹر جنرل اور ایک ریاست کے سابق ڈی جی پی کو شامل کرنے پر رضامندی حاصل کر لی گئی ہے۔ دونوں کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ فی الحال کھلی عدالت میں ان کے نام ظاہر نہیں کیے جائیں گے اور بدھ کو کمیٹی اور اس کے ارکان کے ناموں کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے دونوں فریقوں کو ایک ایک نوڈل افسر مقرر کرنے کی ہدایت بھی دی۔ تمام شواہد اور متعلقہ مواد نوڈل افسر کے حوالے کیا جائے گا، جو اسے عدالت تک پہنچائے گا۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی وکیل ورندا گروور نے پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے افراد سمیت دیگر متاثرین کا معاملہ اٹھایا۔ دوسری جانب زخمی پولیس اہلکاروں کی وکیل نے مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیے جانے کی بات کہی۔ ایک درخواست گزار کی جانب سے سابق فوجی کی اہلیہ سودیش کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا معاملہ بھی عدالت کے سامنے رکھا گیا۔

جنتَر منتر کو مظاہرے کے لیے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی تجویز پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر انتظامی معاملہ ہے اور ماہرین اس بات کا جائزہ لے سکتے ہیں کہ ایسا کرنا ممکن ہے یا نہیں۔ عدالت نے کہا کہ کچھ معاملات پر فوری توجہ کی ضرورت ہے، جبکہ رہنما خطوط اور پروٹوکول وضع کرنے جیسے امور پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ عدالت اس معاملے میں بدھ کو مزید کارروائی کرے گی۔