قومی خبریں

اراکین اسمبلی اب سنگین امراض سے متاثرہ مریضوں کی کر سکیں گے 20 لاکھ روپے کی مدد، جموں و کشمیر حکومت کا اہم فیصلہ

عمل کو مکمل طور پر شفاف اور تیز بنانے کے لیے رکنِ اسمبلی کی سفارش پر منظور کی گئی رقم براہِ راست متعلقہ اسپتال یا طبی ادارے کے بینک کھاتے میں منتقل کی جائے گی۔

<div class="paragraphs"><p>عمر عبداللہ / آئی اے این ایس</p></div>

عمر عبداللہ / آئی اے این ایس

 

جموں و کشمیر حکومت نے صحت کے شعبے میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے اراکینِ اسمبلی کو اہم مالی اختیارات سونپ دیے ہیں۔ اب تمام اراکینِ اسمبلی اپنے حلقۂ انتخاب ترقیاتی فنڈ (سی ڈی ایف) سے سنگین اور جان لیوا بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لیے ہر سال 20 لاکھ روپے تک کی مالی امداد براہِ راست منظور کر سکیں گے۔ حکومت کے اس فیصلے سے مہنگے علاج کی وجہ سے بے بس ہونے والے غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو بڑی راحت ملے گی۔ پرانے قواعد کے تحت رکنِ اسمبلی فنڈ کا استعمال صرف بنیادی ڈھانچے اور تعمیراتی کاموں، مثلاً سڑک، بجلی یا پانی کے منصوبوں پر ہی کیا جا سکتا تھا۔ طبی امداد کے لیے اس میں انتہائی محدود گنجائش تھی، جس کی وجہ سے اراکینِ اسمبلی چاہنے کے باوجود بھی خاطر خواہ مدد نہیں کر پاتے تھے۔

Published: undefined

نظرثانی شدہ اس رہنما اصول کے بعد اب ضرورت مند مریض مالی امداد کے لیے براہِ راست اپنے علاقے کے رکنِ اسمبلی سے رابطہ کر سکیں گے۔ عمل کو مکمل طور پر شفاف اور تیز بنانے کے لیے، رکنِ اسمبلی کی سفارش پر منظور کی گئی رقم براہِ راست متعلقہ اسپتال یا طبی ادارے کے بینک کھاتے میں منتقل کی جائے گی، تاکہ پورا عمل صاف و شفاف رہے اور بغیر کسی تاخیر کے مریض کا علاج شروع کیا جا سکے۔ اس فیصلے سے ایمرجنسی میں صحت سے متعلق درپیش مسائل کے دوران کاغذی کارروائی اور انتظامی تاخیر سے نجات ملے گی، اور بروقت علاج مل سکے گا۔ ساتھ ہی مریضوں کی قیمتی جانیں بھی بچائی جا سکیں گی۔

Published: undefined

جن سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے مالی امداد فراہم کی جائے گی: کینسر کی تمام اقسام کے مہنگے علاج، دل کی سنگین بیماریاں اور سرجری، گردوں فیلیور (ڈائیلاسس اور ٹرانسپلانٹ کے مراحل)، جگر سے متعلق سنگین بیماریاں اس کے علاوہ بڑی نیورو سرجری اور اس نوعیت کے دیگر پیچیدہ طبی مسائل شامل ہیں۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined