قومی خبریں

اعظم خان جل نگم گھوٹالہ کی جانچ میں مجرم قرار، فرد جرم دائر کرے گی ایس آئی ٹی

جل نگم گھوٹالہ کی تفتیش کر رہی ایس آئی ٹی نے اعظم خان کو مجرم قرار دیا ہے، ایس آئی ٹی نے سیتاپور جیل میں اعظم خان کے خلاف وارنٹ بھی جاری کر دیا ہے

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس 

لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے قدآور رہنما اعظم خان اس وقت جیل میں ہیں اور ان کی مشکلات میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشہ روز الہ آباد ہائی کورٹ سے اعظم خان کی درخواست ضمانت نامنظور کر دی گئی، جبکہ جمعہ کے روز جل نگم گھوٹالہ کی تفتیش کر رہی ایس آئی ٹی نے انہیں مجرم قرار دیا ہے۔ ایس آئی ٹی نے سیتاپور جیل میں اعظم خان کے خلاف وارنٹ بھی جاری کر دیا ہے۔

Published: undefined

ایس آئی ٹی نے جل نگم گھوٹالہ معاملہ میں اعظم خان کے خلاف 25 اپریل 2018 کو مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمہ میں اعظم خان کے ساتھ اس وقت کے شہری ترقی کے سیکریٹری ایس پی سنگھ، سابق ایم ڈی پی کے آسودانی اور اس وقت کے چیف انجینئر انیل کھرے کے نام بھی درج تھے۔

Published: undefined

اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کے دور حکومت میں جل نگم میں جے ای کے 853 اور کلرک کے 335 عہدوں کے ساتھ اسسٹنٹ انجینئر کے 117 عہدوں پر بھرتی ہوئی تھی۔ بھرتی میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد ہوئے اور اس کے بعد اعظم خان کے خلاف ایف آئی آر درج کئے جانے کے بعد جانچ کے بعد ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی۔ ایس آئی ٹی جلد ہی اس معاملہ میں عدالت میں فرد جرم دائر کرے گی۔

Published: undefined

قبل ازیں، جمعرات کے روز اعظم خان اور ان کے بیٹے عبد اللہ اعظم خان کو اس وقت جھٹکا لگا جب الہ آباد ہائی کورٹ نے ان کی درخواست ضمانت نامنظور کر دی۔ جسٹس سنیت کمار کی سنگل بنچ ضمانت پر فیصلہ سنایا۔ عدلت نے دونوں فریقین کی بحث مکمل ہونے کے بعد 19 نومبر کو فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔

Published: undefined

اعظم خان سرکاری زمین پر قبضہ کرنے، وقف کی املاک پر جوہر یونیورسٹی قائم کرنے اور بیٹے کی فرضی عمر کی سند بنوانے کے معاملہ میں جیل میں بند ہیں۔ ان کے ساتھ اہلیہ تزئین فاطمہ اور بیٹا اعبداللہ اعظم سیتا پور جیل میں قید ہیں۔

ان کے خلاف رام پور کے بی جے پی لیڈر آکاش سکسینہ نے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اعظم خان کو اب تک 86 معاملوں میں ضمانت مل چکی ہے، جبکہ ہائی کورٹ کے دو اور ضلع عدالت رام پور کے دو مقدمات میں ضمانت ملنا باقی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined