
چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کی دوطرفہ سربراہ ملاقات ختم ہونے کے بعد کانگریس نے چین کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات اور حکومت کی پالیسی پر کئی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری (مواصلات) جے رام رمیش نے ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم نریندر مودی سے چار ایسے سوالات کیے جن کے جواب ملک اب بھی جاننا چاہتا ہے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ شی جن پنگ کے ساتھ وزیراعظم کی دوطرفہ سربراہ ملاقات ختم ہو چکی ہے، لیکن اس کے باوجود چین کے حوالے سے کئی اہم سوالات جواب طلب ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر سرحدی تنازعہ، آپریشن سندور کے دوران چین کے کردار اور چین کے ساتھ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی اقتصادی وابستگی کو موضوع بنایا۔
پہلا سوال 19 جون 2020 کے بیان سے متعلق ہے۔ جے رام رمیش نے پوچھا کہ کیا وزیراعظم کی جانب سے اس وقت چین کو دی گئی ’کلین چٹ‘ نے ہندوستان کو کمزور نہیں کیا؟ انہوں نے وادی گلوان میں 15-16 جون 2020 کی رات چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ 45 برس میں سرحد پر فوجیوں کی جان جانے کا پہلا بڑا واقعہ تھا۔ اس کے چند روز بعد 19 جون کو آل پارٹی میٹنگ میں وزیراعظم کے بیان ’نہ کوئی ہماری سرحد میں گھس آیا ہے، نہ ہی کوئی گھسا ہوا ہے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس بیان کو آج تک واپس نہ لینے سے بعد کی بات چیت میں ہندوستان کی پوزیشن کمزور نہیں ہوئی؟
دوسرا سوال لداخ اور اروناچل پردیش سے متعلق ہے۔ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ مشرقی لداخ کے بڑے حصوں میں ہندوستان نے روایتی گشت اور مویشی چرانے کے حقوق خاموشی سے ترک کیے ہیں، جبکہ کچھ ہندوستانی پیٹرولنگ پوائنٹس تک رسائی بھی ختم ہوئی ہے۔ انہوں نے اروناچل پردیش میں چینی سرگرمیوں اور نئے تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ حکومت نے چین کو خطے میں اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ بڑھانے کی اجازت کیوں دی۔ انہوں نے برہم پتر کے ’’گریٹ بینڈ‘‘ پر چین کی جانب سے 60,000 میگاواٹ کے میگا ڈیم منصوبے کو بھی ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں کی آبی سلامتی کے لیے تشویش کا معاملہ قرار دیا۔
تیسرا سوال آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے لیے چین کی حمایت سے متعلق ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے عوامی طور پر آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی مدد میں چین کے کردار کو ’’گہرا اور فیصلہ کن‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ پھر حکومت نے چین کے کردار کے معاملے پر ہندوستان کا موقف نرم کیوں پڑنے دیا۔
چوتھا سوال اقتصادی تعلقات سے متعلق ہے۔ جے رام رمیش کے مطابق مالی سال 2025-26 میں چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ ریکارڈ 112.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس سے ایم ایس ایم ای سمیت ہندوستانی صنعت کے بڑے حصے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خام مال، مینوفیکچرنگ پرزوں اور درمیانی درجے کی اشیا کے لیے چین پر ہندوستان کا انحصار خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ ’میک اِن انڈیا‘ اور ’امپورٹ فرام چائنا‘ کیا اب ایک ہی سکے کے دو رخ بن گئے ہیں، اور اس ناقابل قبول صورت حال کو بدلنے کا روڈ میپ کیا ہے؟ آخر میں جے رام رمیش نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات کا معمول پر آنا ایک بات ہے، لیکن ان کے مطابق حکومت کی جانب سے اختیار کی گئی پالیسی سوچ سمجھ کر کیا گیا خودسپردگی کا رویہ دکھائی دیتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔