
نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور پارٹی کے مواصلاتی شعبے کے سربراہ جے رام رمیش نے ایکس پر طویل پوسٹ کے ذریعے وزیرِ اعظم پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اور حکمراں جماعت نہ صرف تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے بلکہ قومی علامات سے جڑی شخصیات کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔
جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ کا آغاز گزشتہ ماہ پارلیمنٹ میں قومی ترانے پر ہوئی بحث کے ذکر سے کیا۔ ان کے مطابق اس بحث کے دوران قومی ترانے کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے گرو دیو رویندر ناتھ ٹیگور کی ادبی اور قومی حیثیت کو ٹھیس پہنچی۔
Published: undefined
جے رام رمیش ان کا کہنا تھا کہ یہ بحث حکمراں جماعت کے لیے اس قدر غیر آرام دہ ثابت ہوئی کہ اس میں تاریخی حقائق کے بجائے سیاسی بیانیے کو فوقیت دی گئی۔ پارلیمنٹ کی اس بحث کا حوالہ دیتے ہوئے جے رام رمیش نے واضح کیا کہ قومی ترانہ صرف ایک نغمہ نہیں بلکہ آزادی کی جدوجہد اور ہندوستانی قومیت کی علامت ہے، جس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ تاریخ سے ناانصافی کے مترادف ہے۔
انہوں نے 23 جنوری کو نیتاجی سبھاش چندر بوس کے 129ویں یومِ پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نیتاجی نے 1937 میں ’وندے ماترم‘ کے بعد کے اشعار سے جڑے تنازعہ کو سلجھانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا لیکن وزیرِ اعظم نے دانستہ طور پر اس حقیقت کو نظر انداز کیا۔ جے رام رمیش کے مطابق اس دور میں قومی علامات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا، جسے نیتاجی نے سیاسی بصیرت اور قومی سوچ کے ساتھ حل کیا۔
Published: undefined
پوسٹ میں معروف مؤرخ اور نیتاجی کے پڑپوتے سوگاتا بوس کا حوالہ بھی دیا گیا، جن کے مطابق نیتاجی نے 2 نومبر 1942 کو برلن میں فری انڈیا سینٹر کے افتتاح کے موقع پر ’جن گن من‘ کو قومی ترانے کے طور پر منتخب کیا تھا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ یہ تاریخی واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی ترانے کا انتخاب محض رسمی نہیں بلکہ آزادی کی عالمی جدوجہد کا حصہ تھا۔
انہوں نے مزید یاد دلایا کہ 2 اکتوبر 1943 کو سنگاپور میں نیتاجی نے آزاد ہند حکومت کے لیے ’جے ہند‘ کو باضابطہ نعرے کے طور پر اختیار کیا۔ جے رام رمیش کے مطابق یہ نعرہ آزادی، خودداری اور قومی اتحاد کی علامت تھا، مگر آج حکمراں جماعت اس نعرے سے گریز کرتی نظر آتی ہے۔
Published: undefined
اسی تسلسل میں انہوں نے 6 جولائی 1944 کے اس تاریخی ریڈیو خطاب کا حوالہ دیا، جس میں نیتاجی نے پہلی بار مہاتما گاندھی کو ’راشٹر پتا‘ (فادر آف نیشن) کہا تھا۔ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ وزیرِ اعظم منظم طریقے سے مہاتما گاندھی کی یاد اور وراثت کو کمزور کر رہے ہیں، جس کی تازہ مثال منریگا کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔
پوسٹ کے آخر میں جے رام رمیش نے وزیرِ اعظم کو ’ہندوستان کا سب سے بڑا تاریخ کو مسخ کرنے والا‘ قرار دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید ’انٹائر پالیٹیکل سائنس‘ میں یہی سب پڑھایا جاتا ہوگا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined