
سپریم کورٹ آف انڈیا
سپریم کورٹ نے آج ایک معاملے میں اتر پردیش پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے سخت سرزنش کی ہے۔ عدالت نے تلخ لہجے میں کہا کہ ہر چیز میں آپ کا کوئی نہ کوئی ایجنڈا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر پولیس معاملات کو اس طریقے سے سنبھالے گی، تو لوگ اس پر کس طرح یقین کریں گے۔ عدالت نے یہ تبصرہ ایک ایف آئی آر میں ملزم کے خانے میں نام چھوڑ دینے اور بعد میں نام شامل کرنے پر کیا۔
در اصل سپریم کورٹ نے غور کیا کہ ایف آئی آر میں ملزم کا نام خالی چھوڑ دیا گیا تھا اور بعد میں اسے شامل کیا گیا۔ یہ ایک فوجداری کا مقدمہ تھا، اور ایف آئی آر میں ملزم کا نام شامل نہیں کیا گیا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے ناراضگی ظاہر کی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر آپ معاملوں کو اس طرح سنبھالیں گے تو لوگ بھروسہ کیسے کریں گے۔ عدالت نے مزید کہا کہ بہتر ہوگا کہ ہم اتر پردیش پولیس کی سبھی جانچ میں سی بی آئی کو شامل کرنے کے لیے کہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس سے تو بہتر ہے کہ اتر پردیش پولیس کو ہی ختم کر دیں۔ عدالت نے سخت لہجے میں کہا کہ یہ بکواس کسی نہ کسی موڑ پر تو رکنی ہی چاہئے۔
خبر کے مطابق نامعلوم کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس کے بعد جب ملزم کا نام بھی سامنے آگیا، تب بھی ایف آئی آر میں اس کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ اس معاملے کو لے کر سپریم کورٹ نے یوپی پولیس کو پھٹکار لگائی ہے۔ دراصل کئی ایسے مواقع آئے ہیں، جب سپریم کورٹ کو لگا ہے کہ یوپی پولیس یا تو صحیح طریقے سے تحقیقات نہیں کر رہی ہے، یا پھر کارروائی میں اس کا نظام بہت ناقص ہے۔ اسی کے پیش نظر سپریم کورٹ نے آج کئی سخت تبصرے کیے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ایک عام کریمنل کیس تھا، جس پر سپریم کورٹ نے یہ سخت تبصرہ کیا ہے۔ عدالت کے تبصرے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یوپی پولیس کی مسلسل سامنے آ رہی خامیوں سے عدالت بھی عاجز آ چکی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر کانگریس میڈیا سیل