قومی خبریں

اسرو نے پھر تاریخ رقم کی، اسپیڈیکس مشن کے تحت 2 سیٹیلائٹوں کی کامیاب ڈاکنگ، وزیر اعظم کی مبارک باد

امریکہ، روس اور چین کے بعد یہ کارنامہ انجام دینے والا ہندوستان چوتھا ملک بن گیا ہے۔ ڈاکنگ تکنیک کی ضرورت چندریان-4 جیسے مشن میں ہوگی، جس میں چاند سے نمونہ لے کر زمین پر واپس آنا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

ہندوستانی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) نے جمعرات کو ایک بار پھر سے تاریخ رقم کر دی ہے۔ اسرو نے اسپیڈیکس (اسپیس ڈاکنگ ایکسرسائز) مشن کے تحت دو سیٹیلائٹ کو کامیابی کے ساتھ ڈاک کرنے کا عمل پورا کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان امریکہ، روس اور چین کے بعد یہ کارنامہ انجام دینے والا چوتھا ملک بن گیا ہے۔ اسرو کی اس کامیابی پر پورے ملک میں خوشی کی لہر ہے اور سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے مبارک باد دی ہے۔

'اسرو' نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے اسے تاریخی لمحہ بتایا۔ اسرو نے 'ایکس' پر لکھا "ہندوستان نے خلائی تاریخ میں اپنا نام درج کر لیا ہے۔ سو پربھات بھارت، اسرو کے اسیپڈیکس مشن نے 'ڈاکنگ' میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ اس لمحہ کا گواہ بن کر فخر محسوس ہو رہا ہے۔"

Published: undefined

اسرو کی اس کامیابی پر وزیر اعظم نریندر مودی نے مبارک باد پیش کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کیے گئے اپنے ایک پوسٹ میں لکھا، "سیٹیلائٹس کی خلائی ڈاکنگ کے کامیاب مظاہرہ کے لیے اسرو کے ہمارے سائنس دانوں اور مکمل خلائی برادری کو مبارک باد۔ یہ آنے والے برسوں میں ہندوستان کے اہم اور کثیرالمقاصد خلائی مہمات کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔"

Published: undefined

مشن کے تحت پہلے دونوں سیٹیلائٹ کو 20 کلومیٹر کی دوری پر رکھا گیا۔ اس کے بعد چیسر سیٹیلائٹ نے ٹارگیٹ سیٹیلائٹ کے پاس جاکر 5 کلومیٹر، 1٫5 کلومیٹر، 500 میٹر اور 225 میٹر، 15 میٹر اور آخر میں 3 میٹر تک کی دوری طے کی۔ اس کے بعد دونوں سیٹیلائٹ کو ایک ساتھ جوڑا گیا۔ ڈٓاکنگ کے بعد سیٹیلائٹس کے درمیان بجلی کی منتقلی کا مظاہرہ کیا گیا، پھر دونوں کو الگ کرکے ان کے متعلق پیلوڈ آپریشن شروع کیا گیا۔

Published: undefined

واضح ہو کہ اس سے پہلے اسرو نے دو مرتبہ ڈاکنگ کی کوشش کی تھی لیکن تکنیکی مسائل کی وجہ سے 7 اور 9 جنوری کو یہ ممکن نہیں ہو سکا تھا۔ 12 جنوری کو اسرو نے سیٹیلائٹ کو 15 میٹر اور 3 میٹر کی دوری تک لانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اسرو نے کہا تھا، "15 میٹر اور 3 میٹر تک کی دوری کو کامیابی سے طے کیا گیا ہے۔ اس کے بعد سیٹیلائٹ کو محفوظ دوری پر لے جایا گیا۔ ڈاٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد ڈاکنگ عمل پورا کیا جائے گا۔"

Published: undefined

بتایا جاتا ہے کہ ڈاکنگ تکنیک کی ضرورت چندریان-4 جیسے مشن میں ہوگی، جس میں چاند سے نمونہ لاکر زمین پر واپس لانا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے خلائی اسٹیشن 'بھارتیہ خلائی اسٹیشن' کے قیام کے لیے یہ تکنیک کافی اہم ثابت ہوگی، جسے 2028 تک لانچ کرنے کا مںصوبہ ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined