قومی خبریں

’کیا ہندوستانی سیاست میں اخلاقی ذمہ داری کا جذبہ اب بھی زندہ ہے؟‘ مرکزی وزیر بھوپیندر یادو پر کانگریس کا حملہ

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ جب کسی وزیر کے سب سے قریبی معاونین میں سے 4 کو بدعنوانی کے الزامات میں برخاست کر دیا جائے تو وزیر کو اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے خود عہدہ چھوڑنے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

بھوپیندر یادو، تصویر آئی اے این ایس
بھوپیندر یادو، تصویر آئی اے این ایس 

مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو اس وقت کانگریس کے نشانے پر ہیں۔ دراصل ان کے دفتر کے 4 افسران اور معاونین کو حال ہی میں مختلف سرکاری احکامات کے ذریعہ عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ چاروں افسران کو ان کے عہدوں سے دستبردار کیے جانے کا فیصلہ جولائی 2026 کے پہلے ہفتہ میں ہوا۔ اس سلسلے میں کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بدعنوانی اور گھوٹالے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ پارٹی نے اس تعلق سے مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کا استعفیٰ بھی مانگا ہے۔

آج کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کر اخلاقیات سے متعلق ایک اہم سوال اٹھایا ہے۔ انھوں نے پوچھا ہے کہ ’’کیا ہندوستانی سیاست میں اخلاقی ذمہ داری کا جذبہ اب بھی زندہ ہے؟‘‘ بعد ازاں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ٹھیک 70 سال قبل تمل ناڈو میں ایک ریل حادثہ کے بعد لال بہادر شاستری نے وزیر ریل کے عہدہ سے استعفیٰ دے کر اخلاقی ذمہ داری کی بہترین مثال پیش کی تھی۔ ان کی اس مثال کو اکثر یاد کیا جاتا ہے اور اس کی ہمیشہ تعریف بھی ہوئی ہے، لیکن اس پر کبھی عمل ہوا بھی ہے تو بہت کم دیکھنے کو ملا ہے۔‘‘

اس سوشل میڈیا پوسٹ میں بھوپیندر یادو کو ہدف بناتے ہوئے جئے رام رمیش نے لکھا ہے کہ ’’جب کسی وزیر کے سب سے قریبی معاونین میں سے 4 کو بدعنوانی کے الزامات میں برخاست کر دیا جائے، تو وزیر کو اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے خود عہدہ چھوڑنے کی خواہش محسوس ہونی چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی وہ لکھتے ہیں کہ ’’اگر انھیں یہ پتہ تھا کہ کیا ہو رہا تھا، تو وہ بھی اتنے ہی قصوروار ہیں۔ اور اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں اس کی جانکاری نہیں تھی، تو یہ حالت مزید سنگین ہے اور ان کے عہدہ چھوڑنے کی وجہ مزید بڑی ہو جاتی ہے۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’یہ ان کے راج دھرم پر عمل کرنے کا وقت ہے، جس کی یاد سابق وزیر اعظم نے 14 سال قبل گجرات کے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ کو دلائی تھی۔ اس راج دھرم میں اخلاقی ذمہ داری اور سیاسی جوابدہی دونوں شامل ہیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ امر سنگھ (پرسنل سکریٹری)، شیلیش کمار سنگھ (ایڈیشنل پرسنل سکریٹری)، آیوش سرن اور سدھارتھ یادو (ایڈیشنل/اسسٹنٹ پرسنل سکریٹری) کو رواں ماہ ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں کچھ میڈیا اداروں کی رپورٹ نے بتایا ہے کہ وزارت ماحولیات نے اب تک افسران کو ہٹائے جانے کی وجہ واضح نہیں کی ہے۔ حالانکہ کانگریس لیڈران کا الزام ہے کہ یہ قدم ایک بہت بڑے گھوٹالے سے جڑا ہوا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔