قومی خبریں

آئی آر سی ٹی سی معاملے میں لالو خاندان پر فرد جرم کا فیصلہ پھر ٹلا، اب 27 اگست کو ہوگی سماعت

آئی آر سی ٹی سی منی لانڈرنگ معاملے میں لالو پرساد یادو اور خاندان کے خلاف فرد جرم پر راؤز ایونیو عدالت کا فیصلہ پھر ٹل گیا۔ عدالت اب 27 اگست کو فیصلہ سنائے گی۔ ای ڈی نے کئی افراد کو ملزم بنایا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

نئی دہلی: آئی آر سی ٹی سی گھوٹالے سے متعلق منی لانڈرنگ معاملے میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) سربراہ لالو پرساد یادو اور ان کے خاندان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے معاملے پر راؤز ایونیو کورٹ کا فیصلہ ایک بار پھر مؤخر ہو گیا ہے۔ عدالت اب اس معاملے میں 27 اگست کو فیصلہ سنائے گی۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اس معاملے میں لالو پرساد یادو، ان کے بیٹے اور بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو، سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، بیٹی میسا بھارتی، ہیما یادو، تیج پرتاپ یادو اور دیگر کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ عدالت کو جمعہ کو ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنا تھا، لیکن سماعت ایک بار پھر آگے بڑھا دی گئی۔

اس سے قبل 31 جولائی کو بھی عدالت نے فرد جرم کے معاملے میں اپنا فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے 14 اگست کو سماعت مقرر کی تھی۔ اس سے پہلے 16 جون کو بھی عدالت نے فرد جرم سے متعلق فیصلہ سنانے کی تاریخ 31 جولائی تک بڑھا دی تھی۔ یوں معاملے میں فرد جرم طے کرنے کا فیصلہ کئی بار ملتوی ہو چکا ہے۔

ای ڈی کے مطابق یہ معاملہ 2004 سے 2009 کے درمیان لالو پرساد یادو کے ریلوے کا وزیر رہنے کے دوران آئی آر سی ٹی سی کے ہوٹلوں کے آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے دیے گئے ٹھیکوں میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔ جانچ ایجنسی کا الزام ہے کہ ہوٹلوں کے رکھ رکھاؤ کا ٹھیکہ مقررہ قواعد اور طریقہ کار کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے لالو پرساد یادو کے قریبی ساتھیوں سے منسلک ایک نجی کمپنی کو دیا گیا تھا۔

ای ڈی کا مزید الزام ہے کہ ان ٹھیکوں کے عوض لالو پرساد یادو کے خاندان اور ان کے قریبی ساتھیوں سے منسلک ایک بے نامی کمپنی کے ذریعے تقریباً تین ایکڑ قیمتی زمین حاصل کی گئی۔ جانچ ایجنسی نے اسی لین دین کو مبینہ منی لانڈرنگ کے معاملے سے جوڑا ہے۔

تاہم، لالو پرساد یادو اور ان کے خاندان نے ان الزامات کی مسلسل تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی آر سی ٹی سی کے ہوٹلوں سے متعلق ٹینڈر کا عمل شفاف اور مقررہ ضابطوں کے مطابق تھا اور اس میں کسی طرح کی بے ضابطگی نہیں کی گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔