قومی خبریں

آئی آر سی ٹی سی معاملہ: لالو خاندان پر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ موخر، اب 22 مئی کو سماعت

آئی آر سی ٹی سی ہوٹل ٹینڈر اور منی لانڈرنگ معاملے میں دہلی کی عدالت نے لالو پرساد یادو اور ان کے اہلِ خانہ پر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ موخر کر دیا۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 22 مئی کو ہوگی

<div class="paragraphs"><p>لالو پرساد یادو / آئی اے این ایس</p></div>

لالو پرساد یادو / آئی اے این ایس

 
IANS

نئی دہلی: آئی آر سی ٹی سی ہوٹل ٹینڈر اور منی لانڈرنگ معاملے میں راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو اور ان کے اہلِ خانہ کو لے کر اہم عدالتی کارروائی ایک بار پھر ٹل گئی ہے۔ دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے بدھ کے روز اس معاملے میں فردِ جرم عائد کرنے سے متعلق فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے سماعت 22 مئی تک ملتوی کر دی۔ اب عدالت اسی دن اس بات پر فیصلہ سنائے گی کہ ملزمین کے خلاف باقاعدہ الزامات طے کیے جائیں گے یا نہیں۔

Published: undefined

اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے لالو پرساد یادو، ان کی اہلیہ رابڑی دیوی، بیٹے تیجسوی یادو، تیج پرتاپ یادو، بیٹی میسا بھارتی، ہیما یادو اور کئی دیگر افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ آئی آر سی ٹی سی کے ہوٹل ٹینڈر میں بے ضابطگیاں کی گئیں اور اس کے بدلے لالو خاندان سے جڑی کمپنیوں کو مالی فائدہ پہنچایا گیا۔

اس سے قبل بھی 16 اپریل کو اس معاملے کی سماعت ملتوی ہوئی تھی۔ اس وقت عدالت کو فردِ جرم عائد کرنے پر فیصلہ کرنا تھا، لیکن کارروائی آگے بڑھا دی گئی تھی اور نئی تاریخ 6 مئی مقرر کی گئی تھی۔ اب ایک بار پھر عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے اگلی سماعت 22 مئی مقرر کی ہے۔

Published: undefined

یہ پورا معاملہ 2004 سے 2014 کے درمیان آئی آر سی ٹی سی کے دو ہوٹلوں کے ٹینڈر سے جڑا ہوا ہے۔ اس دوران لالو پرساد یادو مرکزی حکومت میں وزیرِ ریلوے تھے۔ جانچ ایجنسیوں کے مطابق ہوٹلوں کے رکھ رکھاؤ کے لیے دیے گئے ٹینڈر میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی اور ایک نجی کمپنی کو غیر مناسب فائدہ پہنچایا گیا۔

سنٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے مطابق اس مبینہ فائدے کے بدلے لالو خاندان سے وابستہ ایک کمپنی کو زمین اور دیگر معاشی فوائد فراہم کیے گئے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ٹینڈر کے عمل میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں اور سرکاری عہدے کا غلط استعمال کیا گیا۔

Published: undefined

سنٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن نے 7 جولائی 2017 کو اس معاملے میں پہلی اطلاعاتی رپورٹ درج کی تھی۔ اس کے بعد دہلی، پٹنہ، رانچی اور گروگرام سمیت کئی مقامات پر چھاپے مارے گئے تھے، جہاں سے اہم دستاویزات اور دیگر ثبوت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب لالو پرساد یادو اور ان کے اہلِ خانہ نے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ سیاسی انتقام کا حصہ ہے اور انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined